Bulnad Iqbal Baloch coulmn

دوران مہنگائی سائیکل کی یاد ستائے ۔

قلم کلام ……..بلند اقبال


ایک زمانہ تھا جب پاکستانی درمیانہ طبقہ کے شہریوں کی سب سے مقبول اور خاص و عام سواری بائیسکل تھی۔ لیکن پھر دھیرے دھیرے بائیسکل کی جگہ موٹر سائیکل نے لے لی۔لہذا اب چھوٹے بڑے شہروں میں بائیسکل معدوم ہو چکی ہے۔حالیہ مہنگائی کے سیل بلا نے بائیسکل کو گم گشتی سے باہر آنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ بائیسکل کی گم گشتی نے شہریوں کی سماجی زندگی پر منفی اثرات مرتب کئے۔ بائیسکل کی جگہ موٹر سائیکل کی آمد نے شہریوں کے لائف سٹائل کویکسر بدل کے رکھ دیا۔

موٹر سائیکل کے استعمال نے شہریوں کی زندگی میں تیزی اور آرام کوشی پیدا کی اور بائیسکل چلانے کی مشقت سے چھٹکارے نے معمول کی غیر روایتی ورزش کا سوتا بند کر دیا۔یہ بہت بڑی سماجی اورجسمانی تبدیلی تھی، معمولات زندگی میں وقت کی بچت تو خوب ہوئی لیکن اس تبدیلی نے شہریوں کی جسمانی صحت پر کاری ضرب لگائی ۔موٹاپے، ہائی بلڈپریشر اور شوگر کے امراض نے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مذکورہ امراض نے امراض قلب کو بڑھاوا دیا۔ قارئین بائیسکل سواری کے عروج میں شہر ڈی آئی خان میں چند میڈیکل سٹور تھے، لیکن آج شہر بھر میں میڈیکل سٹورز کی تعداد بلا مبالغہ سینکڑوں تک پہنچ چکی ہے۔ اس مثال سے بائیسکل اور موٹر سائیکل کے استعمال سے شہریوں کی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات کا اندازہ باآسانی لگایا جا سکتا ہے۔ چونکہ موٹر سائیکل کی سواری کو تمام طبقات کی پذیرائی حاصل ہوئی اس لئے غریب اور امیر دونوں ان منفی اثرات سے یکساں متاثر ہوئے۔

معاشی بحران کی جکڑبندیوں سے سماجی ترقی کا باب بند ہو جاتا ہے اور تنزلی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ پٹرول کی حالیہ مہنگائی نے پٹرول فری سواری بائیسکل کی یاد شدت سے دلا دی۔ اس لئے ماضی میں گھروں کے کونوں، کھدروں میںدھری بائیسیکلز پھر سنبھالی جانے لگیں ہیں۔ لوگوں نے ان پرانی اور عرصہ سے ناکارہ بائیسکلوں کو مرمت کروا کے سواری کے قابل بنوا لیا ہے۔ لہذا شہروں کے گلی محلوں اور بازاروں میں، بائیسکل سوارں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ دیکھا جا رہا ہے ایک زمانہ تھا جب ایک گھر میں ایک موٹر سائیکل گھریلو ضروریات کے لئے کافی سمجھی جاتی تھی۔ لیکن بعد ازاں ہر فرد کے لئے ایک علیحدہ موٹر سائیکل نے رواج حاصل کر لیا، اب مہنگائی کے بدترین تاریخی سونامی نے اس عیاشی کی گنجائش ختم کر دی ہے۔

اب بڑھتی مہنگائی کے ہنگام ایک گھر ہنگامی ضرورتوں کے لئے ایک موٹر سائیکل سے زائد پٹرول اخراجات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہ صورت حال دم توڑتی گم گشتہ سواری بائیسکل کے وجود اور بقاء کے لئے مثبت ہے، ہماری طرح ترقی یافتہ ملکوں میں ترقی کے ارتقائی سفر میں بائیسکل کی موت واقع نہیں ہوئی بلکہ کاروں، موٹروں، ریلیوں اور ہوائی جہازوں کی یلغار اور اژدھام میں بائیسکل بھی باوقار سواری کے طور پر زندہ ہے۔ جس سے بچے بوڑھے اور جوان سب والہانہ محبت کرتے ہیں۔ ان خطوںکی سر زمین پہ یہ سواری ا تنی باتوقیر ہے کہ جہاں موٹروں، کاروں، ٹرکوں اورموٹر سائیکلوں کے لئے علیحدہ علیحدہ پاتھ اور ٹریک موجود ہیں وہاں بائیسکلز کے لئے بھی علیحدہ ٹریک بنائے گئے ہیں۔ ترقی یافتہ دنیا میں بائیسکلز کے لئے یہ قدر منزلت اور چأہت اس بات کی گواہی ہے کہ تہذیب یافتہ لوگ آلودگی سے بچاؤ اور جسمانی ورزش کے لئے بائیسکل کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔اس لئے ترقی یافتہ ریاستیں بھی بائیسکل جیسے سماجی فیض کے دوام کے لئے ہر لمحہ کربستہ رہتی ہیں۔ قارئین کرام وطن عزیز کی گلیوں اور رستوں پر بائیسکل کی پھر سے آمداورچلن خوش آئند اور پرمسرت قدم اورنیک شگون ہے۔لیکن ہماری لاغر معاشی صورت حال کے دباؤ میں بائیسکلز کاتحرک مایوس کن بھی ہے۔ کیونکہ کوئی سماج موٹر کار اور موٹرسائیکل سے مراجعت کرتے ہوئے ماضی کی پسماندہ سواری بائیسکل کواپنائے تواس واپسی کو تنزلی کی جانب لوٹ آنا ہی کہا جائے گا۔ کیا معاشی ابتری ہمیں غار کے دور کی جانب دھکیل رہی ہے؟ قارئین کرام مہنگائی کے بڑھتے سیل بلا نے غریب اور متوسط طبقہ کی سواری بائسکل کی قیمتوں کو بھی پر لگا دیئے ہیں۔

یہ سن کر آپ حیران ہوں گے کہ نئے بائیسکل کی مارکیٹ میں قیمت بائیس ہزار سے پچیس ہزار روپے بتلائی جا رہی ہے۔ اس طرح پلوشن فری چارجنگ موٹرسائیکل کی قیمت ایک لاکھ انتیس ہزار روپے بتلائی جا رہی ہے ۔ پٹرول کی مہنگائی کے اس دور میں بائیسکل اور چارجنگ موٹر سائیکل کی یہ ہوش ربا قیمتیں حکومت وقت کے لئے کھلا چیلنج ہیں۔ جان لیوا مہنگائی کے اس دور میں صنعت کاروں کی من مانیاں اور ظالمانہ قیمتوں کی وصولی حکومت کی ناکامی کی دلیل ہے۔ ادھر اپوزیشن پی ٹی آئی نے بیس جولائی کو ملک بھر میں مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کے خلاف یوم احتجاج منایا۔ اس احتجاج کو بھی پچیس مئی کے احتجاجی لانگ مارچ کی طرح عوامی پذیرائی نہ مل پائی ۔یہ احتجاج بھی ورکرز تک محدود رہا اور عوامی جوش وشرکت سے محروم رہا یہ صورت حال اپوزیشن کے لئے انتہائی مایوس کن ہے۔ ہمارے فہم ونظر کے مطابق مہنگائی کے خلاف عوامی بے حسی ہمیشہ برقرار نہیں رہے گی۔

کسی وقت بھی مہنگائی کے خلاف عوامی پیمانہ صبر لبریز ہو سکتا ہے۔ دراصل سابقہ حکومت اور موجودہ اپوزیشن کے دھوکہ دہی طرز عمل اور کلچرسے عوام حد درجہ مایوس ہیں۔ لوگ موجودہ نئی مخلوط واتحادی حکومت کو وقت دینا ضروری سمجھتے ہیں۔کیونکہ نئی اتحادی حکومت کو اقتدار میں آئے دو ماہ ہوئے ہیں۔ اگر اتنا عرصہ مزید گزرنے کے باوجود بھی برداشت کا دورانیہ ثمرآور نہ ہوا تو مہنگائی سے ستائے شہری کسی بڑے عوامی احتجاجی طوفان کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ اس لئے نئی اتحادی حکومت پر لازم ہے کہ وہ عوام کو مہنگائی سے ریلیف کے لئے ٹھوس عملی اقدامات اٹھائے۔غریبوں اور نچلے طبقات کے لئے دو ہزار روپے ماہوار کا وعدہ پورا کرے۔ قارئین کرام مہنگائی کی بدولت نت نئے سماجی شاخسانے منظر عام پر نظر آرہے ہیں۔ ڈی آئی خان سٹی و ضلعی انتامیہ نے منتخب عوامی نمائندوں سے مشاورت کئے بنا روٹی کی قیمت میں پچاس فیصد اضافے کا عاجلانہ فیصلہ کیا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ دو دن بعد نانبائیوں نے از خود روٹی کی قیمت پندرہ روپے کی بجائے دس روپے کر دی ایسا انتظامیہ کے دباؤ پر نہ ہوا نہ ہی نانبائیوں نے شہریوں پر ترس کھاتے ہوئے ریٹ کم کیا۔ دراصل روٹی کی یہ ظالمانہ قیمت عام آدمی کی قوت خرید سے بہت زیادہ تھی۔ اس ظالمانہ ریٹ کی بدولت شہریوں نے روٹی تندوروں سے خریدنے کی بجائے گھروں میں چولہوں پر خود پکانے کا فیصلہ کیا۔ یہ قدم شہریوں کی جانب سے خاموش احتجاج اور تندوروں سے روٹی خریدنے کاغیر اعلانیہ بائیکاٹ تھا۔ شہریوں کی جانب سے بائیسکل کو پھر سے گھروں سے نکال کر استعمال کرنا اور تندورچیوں کے ظالمانہ ریٹوں کے رد عمل میں روٹی خریدنے کا بائیکاٹ اور گھروں کے چولہوں پر روٹی پکانے کا فیصلہ احسن اقدامات ہیں، مہنگائی کے مقابلے کے لیے عوا می مزاحمتی جرأت مندانہ اقدامات کی جتنی ستائیش کی جائے کم ہے۔
تھوڑسی نم ہو تو
یہ مٹی بڑی زرخیز ہے
٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں