Abulmuazzam turabi coulmn

جنرل ریٹائرڈ ظہیر الاسلام کا برملا اعتراف

سندھ کنارے۔۔۔۔۔تحریر: ابوالمعظم ترابی

پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے بعد عمران خان نے امریکا کی مداخلت اور سازش کے ذریعے ان سے کرسئی اقتدار چھیننے کا جو موقف اپنایا اور اسٹیلشمنٹ کی سیاست میں عدم دخل انداذی کو جس طرح ہدف بنایا۔اس کی روشنی میں کئی ریٹائرڈ فوجی افسروں کے بھی ضمیر جاگ گئے اور ان کے ایمانوں میں بھی حرارت پیدا ہو گئی۔

نوکری کے دوران صرف نوکری کرنے اور سبک دوشی پر تمام تر مراعات لینے والوں کو اب یاد آیا کہ امریکا پاکستان کے معاملات میں مداخلت کرتا ،سازشیں کر کے حکومت معزول کرا دیتا اور اپنے گماشتوں کو تخت نشین کرا دیتا ہے۔اگر جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر جرنیل چاہتے تو عمران خان کی حکومت کے خلاف سازش ناکام بنائی جا سکتی تھی۔

مگر اسٹیبلشمنٹ نے غیر جانب داری دکھا کر سازش کی کامیابی کی راہ ہموار کی اور ملک و قوم کا دفاع نہیں کیا۔گویا پی ٹی آئی کی حکومت اور عمران خان کی وزارت عظمی ہی پاکستان کے استحکام و مضبوطی،آذادی و خود مختاری ،حفاظت و دفاع اور ترقی و خوش حالی کی ضمانت ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو عمر بھر امریکا کی غلامی کرتے اور اس کے لیے لڑتے رہے۔پس تکلیف یہ ہے کہ امریکا نے انہیں سپہ سالار نہیں بننے دیا۔یہ سب مخلصین و محبین عمران خان کی محبت میں ایسے گرفتار ہوئے ہیں کہ افواج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر جرنیلوں کو کوس کر موجودہ حکمرانوں کے لتے لے رہے ہیں۔کیوں کہ موجودہ حکمرانوں نے سابق ادوار میں نوکریوں کے دوران انہیں اپنا لاڈلا نہیں بنایا۔یہی وہ جرنیل ہیں جو جمہوریت کے خلاف مارشل لاوں کے نفاذ میں پیش پیش رہے ہیں۔

دراصل انہیں جمہوریت سے چڑ اور سیاست دانوں سے نفرت ہے۔چناں چہ آج بھی وہ ایسی فاشسٹ و آمرانہ طرز کی حکومت کے خواہاں ہیں جو سیاست دانوں اور جمہوریت کا قلع قمع کر کے ملک کو مقبوضہ بنا لے۔آئین و قانون کی دھجیاں اڑا کر من گھڑت و من پسند طریقے سے ریاست چلائے۔اور یہ مقصد صرف عمران خان ہی پورا کر سکتا ہے۔یہ صاحبان خود کو ملک و قوم کا ہمدرد و غم گسار باور کرانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں مگر اپنے ماضی پر شرم سار نہ ہی معذرت خواہ ہیں اور نہ ہی امتیازی طور پر ملنے والی مراعات واپس کرکے حقیقی ہمدرد و درد مند ثابت ہو رہے ہیں۔بل کہ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کے ساتھ ہائبرڈ وار کا حصہ بن چکے ہیں۔جو امریکا،اسرائیل اور بھارت سمیت پاکستان دشمن دیگر ممالک نے شروع کی ہوئی ہے۔اسٹیلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت اور دہشت گردی کے دوران عوام کے ساتھ ناروا سلوک نے ففتھ جنریشن وار کو شہہ دی مگر عمران خان نے ہائبرڈ وار تیز کرنے اور جلتی پر تیل چھڑکنے کا ناکام فریضہ سرانجام دیا۔

صد حیف کہ سبک دوش فوجی افسران بھی اس جنگ کا حصہ بن چکے ہیں۔آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور جنرل ریٹائرڈ ظہیر الاسلام نے تو موجودہ حالات و واقعات کا احساس کیے بغیر بلا سوچے سمجھے آئین و قانون کے منافی اقدامات کرنے اور پی پی پی و مسلم لیگ ن کے مقابلے میں پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانے کا اعتراف کر کے اقبال جرم کر لیا اور یوں نہ صرف اپنے بل کہ حساس قومی ادارے کے خلاف بھی شہادت پیش کر دی۔اپنے تئیں وہ حب الوطنی اور قوم سے وفاداری کا مظاہرہ کر رہے تھے مگر اصل میں اپنی ذات اور قومی ادارے کے چہرے پر کالک مل رہے تھے۔افسوس ہے ایسے جنرل پر جس کی عقل و دانش نے غیر ضروری گفت گو کو اہم تصور کیا۔لگتا ہے جنرل صاحب نے اسی دماغ سے کام لے کر نوکری کی ہو گی اور عبث باتوں اور کاموں کو اہمیت دے کر ملک و قوم کا نقصان کیا ہو گا۔خدا کرے کہ فوج کو سیاسی معاملات میں غیر جانب دار رکھا جائے۔آذادانہ و غیر جانب دارانہ شفاف انتخابات کے نتیجے میں جو جماعت اکثریت حاصل کرے اسے حکومت کا حق دیا جائے۔ ورنہ ہائبرڈ وار کی سازش کی کامیابی یقینی ہو جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں