احسان احمد سیال

سرکلر منڈی ڈیرہ اسماعیل خان

عنوان :سرکلر منڈی ڈیرہ اسماعیل خان


کالم نگار: احسان احمد سیال

میرے ایک دوست جو پچھلے کئی برسوں سے بیرون ملک رہائش پذیر تھے اس برس اپنی بوڑھی ماں کی آخری خواہش پوری کرنے عید پہ ڈی آئی خان آ گئے۔ اُنہیں قربانی کے لیے بکرا خریدنا تھا تو مجھ سے التماس کی حضور آپ اتنے عرصے سے بکروں کے بیچ رہ رہے ہیں، یقیناً ان کے بارے میں زیادہ علم رکھتے ہوں گے، اس لیے میرے ساتھ چلیں اور کوئی بڑھیا سے بکرا دلوا دیں۔ بکروں کے بیچ رہنے والی بات سن کر اول تو مجھے غصہ آیا لیکن غور کرنے پہ احساس ہوا کہ واقعی ہم بکروں کے بیچ ہی رہ رہے ہیں۔ کیونکہ آئے روز اپنے اردگرد لوگوں کو بے گناہ ذبح ہوتا دیکھتے ہیں، بنیادی سہولیات سے محروم ، ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبی زندگی گزار رہے ہیں۔ نہ تو ظلم کے خلاف بولنے کا حق ہے اور نہ ہی ظالم کے سامنے ڈٹ کھڑا ہونے کا حوصلہ۔


خیر میں نے بکرے کی خریداری کے لیے سرکلر روڈ کا انتخاب کیا کیونکہ آج کل منڈی سے زیادہ بکرے وہیں پہ دستیاب ہیں۔ سرکلر روڈ پہ پہنچ کر میرے عزیز نے پی ٹی آئی حکومت کو داد و تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈی آئی خان کی بکرا منڈی اتنی کشادہ و صاف ستھری ہے تو باقی ڈیرہ کتنا ڈیولپ ہو چکا ہو گا۔ میں نے موصوف کے تجسس کو پھیکا نہیں پڑنے دیا کہ یہ منڈی نہیں بلکہ ڈیرہ کی سب سے اہم تجارتی شاہراہ ہے۔ کیونکہ ہماری زیادہ تر خرید و فروخت سڑکوں پہ ہوتی ہے، چاہے وہ عیدالفطر کی مٹھائیاں اور چوڑیاں ہوں، موسم کے پھل ہوں یا آزادی کے جھنڈے، یہ سب کچھ لینے کے لیے ہم روڈ پہ نکلتے ہیں ماسوائے اپنے حقوق۔
ہم نے خریداری شروع کی تو میرے عزیز نے کچھ خصوصیات گنوائیں جو متعلقہ بکرے میں ہونا لازمی تھیں۔ اور میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ان میں سے ایک خصوصیت بھی اسکی بیگم میں موجود نہیں تھی جیسے دراز قد، موٹی موٹی رانیں، لمبے بال، گول مٹول چہرہ، نشیلی آنکھیں اور مٹکیلی کمر۔

فائل فوٹو


خیر میرے عزیز کے پاس پیسوں کی کمی نہیں تھی اس لیے ہم نے اچھی خاصی رقم سے ایک غیر معمولی بکرا خریدا لیا۔
خریداری کر کے ہٹے تھے کہ قریب سے شور اٹھا، کسی بکرا مالک نے گاہک کو ایک آدھ مکا اور دو تین تھپڑ جڑ دیے، گالی گلوچ سے لڑائی کے محرکات معلوم ہوئے کہ عیار طبع خریدار نے بکرے کی چھاتی، کمر اور رانوں کو ٹٹولنے کے بعد مذاقاً کہہ دیا کہ بکرے کو کھلایا پلایا کرو، اس کی صحت دیکھ کر اندازہ نہیں ہوسکتا کہ یہ بکرا ہے کہ بٹیرا۔ حالانکہ بکرے کی صحت خریدار سے کئی گنا بہتر تھی۔ اس پہ بکرا مالک طیش میں آ گیا۔ اسکا کہنا تھا کہ آپ مجھے برا بھلا کہہ لیں لیکن میرے بکرے پر جملے کسنے کی کوشش نہ کریں۔ یوسفی صاحب کے بقول جب انسان خود سے اعلی نسل کے جانور پال لے تو پھر یہی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔


بکرا مالک اور خریدار کی لڑائی شدت اختیار کرنے لگی تو دور سے پولیس کی گاڑی آتی دیکھائی دی۔ جس پہ میرے عزیز نے سکھ کا سانس لیا کہ تھنک گاڈ پولیس آ گئی اب سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن میں جانتا تھا کہ اب حالات پہلے سے زیادہ خراب ہوں گے اس لیے عزیر سے کہا کہ بکرے کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور میں اپنی بائیک کی جانب لپکا، پولیس اہلکاروں نے بکروں کو چھوڑ کر ان کے مالکان کی ڈنڈوں سے تواضع کرنے کی کوشش کی، جس سے ایک طوفان اٹھا، دھکم پیل شروع ہوئی،بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے چند لمحے قبل جو سفید پوش خریداری کرنے آئے تھے اس اودھم میں گوبر پوش بن چکے تھے، بکروں کے منمنانے سے زیادہ مالکان کے چلانے کی صدائیں آرہی تھیں، طوفان چھٹا تو میں نے دیکھا کہ میرے عزیر سڑک کنارے اوندھے منہ کرالنگ پوزیشن میں لیٹے ہوئے ہیں اور بکرے کے بجائے بھکارن کی ٹانگ پکڑی ہوئی ہے جو مسلسل چلائے جارہی تھی، ” مویا میڈی پِنی تاں چھوڑ”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں