مولانا فضل الرحمٰن

ادارے اپنی حدود سے تجاوز نہ کریں تو ملکی مفاد کیلیے بہتر ہے، مولانا فصل الرحمٰن

ڈیرہ اسماعیل خان(مصطفیٰ مغل) پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اداروں کی قومی امور میں مداخلت خواہ وہ نرم ہو یا سخت ہرگز قبول نہیں کریں گے، اگر ادارے ملک کی سلامتی چاہتے ہیں تو تمام ادارے اپنی حدود میں رہیں۔

اتوار کے روز اپنے گائوں عبد الخیل میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ادارے اپنے دائرہ اختیار کی حدود سے تجاوز نہ کریں۔ اسی تجاوز سے بحران پیدا ہوتے ہیں اور پھر خود پیدا کردہ بحران کا علاج کرنے کے لئے وہی ادارے آ جاتے ہیں اب یہ تماشا بند ہونا چاہئے۔

مولانا نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے مسئلہ پرسپریم کورٹ کا فل کورٹ  بنچ بنایا جائے تاکہ کوئی متنازعہ فیصلہ نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ جس وقت عمران کی حکومت تھی تو عدالتیں اور مقتدرہ نے اسے مکمل اور غیرمشرط حمایت دی لیکن جب سے پی ڈی ایم کی حکومت آئی تو اندھا دھند پارلیمانی اور انتظامی امورمیں مداخلت شروع  ہو گئی۔

مولانا فضل الرحمٰن

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کسی سے بلیک میل ہوں گے نہ دباو میں آئیں گے تمام فیصلے آئین کے مطابق پارلیمنٹ میں طے ہوں گے۔عمران کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں حکومت آئین و قانون کے مطابق عمران دور کی کرپشن کی تحقیقات کرے اور بلاتفریق سب کا کڑا احتساب بھی کرے۔

ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو کہا جاتا ہے ہدایات پر چلنا ہے ورنہ بحران پیدا کر دیں گے ۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ تمام اتحادی رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ وفاقی حکومت باہمی مشاورت سے معاملات طے کرے گی، اب عمران خان کو اس کی زبان میں جواب دیا جائے گا، عمران خان  ملک کو دیوالیہ کر گیا تھا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ عمران خان ایک فتنہ ہے جس کا ہم نے قلع قمعہکرنا ہے، عوام اب سمجھ گئی ہے کہ عمران خان کا بیانیے جھوٹا ہے، وہ اہمیت حاصل کرنے کے لیے روزانہ اپنا بیانیہ بدلتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں