ریسکیو 1122اہلکار کشتیوں کے ذریعے سیلاب متاثرین کو نکالتے ہوئے

مون سون بارشوں کے بعد سیلاب نے ڈی آئی خان کے دیہی علاقوں میں تباہی مچا دیی

ڈیرہ اسماعیل خان(مصطفیٰ مغل) ڈیرہ اسماعیل خان شہر اورمضافات میں مسلسل طوفانی بارشوں کے باعث تحصیل پروآ کے علاقہ رمک میں مکڑڈرین ٹوٹنے سے سیلابی پانی انڈس ہائیوے سے ملحقہ گاؤں جھوک مسو (جھوک تِلکن)اور گائوں چاندنہ غربی کے گھروں میں داخل ہوگیا ہے ۔


اتوار کے روز ریسکیو 1122 کے میڈیا کوارڈی نیٹر اعزاز محمود نے بتایا کہ تحصیل پروآ اور پہاڑ پور میں بارشوں اور سیلابی پانی سے متاثرہونے والے علاقوں میں پھنسے لوگوں کو کشتیاں کے زریعے ریسکیو کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تحصیل پروآ کے گائوں چاندنہ میں خواتین اور بچوں کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ پہاڑپور میں بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے ۔
ان کاکہنا تھا کہ کری خیسور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں پہاڑی پانی گھروں میں داخل ہو گیا ہے جس سے مقامی ۤبادی زیر آب اگئی ہے ۔


ان کا کہناتھا پہاڑ پور اور پروآ کے علاقوں میں  گھروں اور کھیتوں میں پانی بھر جانے کے باعث درجنوں کچے مکانات زمیں بوس ہوگئے ہیں۔

ڈی سی نصراللہ اور اے ڈی سی اقبال وزیر (لائف جیکٹ میں) ریسکیو آپریشنز کا جائزہ لے رہے ہیں۔

 ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پانی کچہ کے علاقہ کی طرف جا رہا ہے اس صورحال میں تحصیل پروآ کے گاؤں سموکھے والی اور بستی شیخاں والی سیلابی پانی کی زد میں آ سکتے ہیں۔


 جبکہ سیلابی ریلے کے انڈس ہائیوے پر چشمہ شوگر ملزII میں بھی داخل ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر ڈیرہ نصراللّٰہ خان کا تحصیل پروآ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی کاروائیوں کا جائزہ لیا اور سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں کی فوری مدد کے لئے متعلقہ افسران کو فوری ہدایات جاری کیں۔


ڈپٹی کمشنر ڈیرہ کا کہنا تھا کہ عوام کی جان و مال کی حفاطت میں کوئی کسر نا چھوڑی جائے گی۔
انہوں نے مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیموں کو ہدایات جاری کیں کہ کشتیوں کا زیادہ سے زیادہ انتظام کیا جائے تاکہ سیلاب سے متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جاسکے۔


ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کئی متاثرہ افراد کو بحفاظت قریبی قائم کردہ ٹینٹ ویلیج پہنچا دیا گیا ہے اور ضرورت کے مطابق دیگر ٹینٹ ویلیج بھی قائم کیے جائیں گے۔


اس صورتحال کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر ڈیرہ نے مزید ہدایات جاری کیں کہ جن علاقوں میں سیلاب کا خطرہ ہے وہاں کے مکینوں کو اپنے سامان کی فکر لاحق ہونے کی بجائے سب سے پہلے اپنی جان بچانی چاہیے۔
جبکہ دوسری جانب شدید بارش اور سیلابی ریلوں سے ڈیرہ شہرا ورمضافات میں مواصلات اور بجلی کا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے۔

طوفانی بارشوں سے سیلاب آنے کے بعد ریسکیو اہلکار1122 امدادی کارروائیوں میں مصروف


 ڈیرہ شہر میں نکاسی آب کے ابتر نظام کے باعث شہر کے چاروں بازاروں اور گلیوں میں بارش کا پانی جمع ہوگیا جو کئی گھنٹوں تک نہ نکل سکا ۔


 گھروں اور دوکانوں میں بارش اور نکاسی آب کا پانی داخل ہونے سے شہریوں کو شدید پریشانی کے ساتھ ساتھ لاکھوں روپے کے نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے ضلعی انتظامیہ سے ہنگامی صورتحال کے نفاذ کے اعلان کا مطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں