وائس چانسلر گومل یونیورسٹی کو ایک بار پھر جبری رخصت پر بھیج دیا گیا

وائس چانسلر گومل یونیورسٹی کو ایک بار پھر جبری رخصت پر بھیج دیا گیا

ڈیرہ اسماعیل خان (وقائع نگار خصوصی ) گومل یونیورسٹی میں ابھی طوفان تھما نہیں تھا کہ ایک بار پھر قائمقام گورنر خیبر پختونخوا اور چانسلر مشتاق غنی نے گومل یونیورسٹی کے وائس پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کو تیسری بارجبری رخصت پر بھیج دیا ہے جبکہ ان کی جگہ ایگریکلچر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مسرور الٰہی بابر کو گومل یونیورسٹی کا ایک بار پھر وائس چانسلر کا چارج دیدیا گیا ہے.

گومل یونیورسٹی میں حالیہ تنازعہ کی وجہ ایگری کلچر یونیورسٹی ہے ۔ اور جبری رخصت پر بھیجے جانے والے وائس چانسلر گومل یونیورسٹی ڈاکٹر افتخار احمد کایہ موقف رہا ہے کہ گومل یونیورسٹی کے اثاثے ایگریکلچرکو منتقل نہیں کئے جا سکتے کیونکہ موجودہ وقت میں گومل یونیورسٹی کے لئے اپنی سانسیں بحال رکھنا ممکن نہیں ہے اور ایسے میں ایسے تمام اثاثے جو گومل یونیورسٹی کی آمدن کا ذریعہ ہیں ان کو ایگری کلچر یونیورسٹی کو منتقل کر دیا گیا تو گومل یونیورسٹی جو پہلے ہی مالی بحران کا شکار ہے مکمل طور پر بند ہو جائے گی ۔

ایسی صورت میں طلبہ کا احتجاج اور علی امین گنڈہ پور کی ان کی پشت پناہی نے گومل یونیورسٹی کے بحران میں مزید اضافہ کیا اور بلآخر گومل یونیورسٹی کو تعلیمی سرگرمیوں کے لئے بند کرنا پڑا اور گزشتہ روز(پیر کو) گومل یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوئی تھیں کہ ایک بار پھر پشاور سے آنے والے احکامات نے اس جامعہ کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں اور گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو تیسری بار جبری رخصت پر بھیج کر گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دیدیا گیا ہے ۔

خیبرپختونخوا کے قائم مقام گورنر مشتاق غنی نے پیر کے روز گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد کو 90 دن کی جبری رخصت پر بھیج دیا جس کے بعد وی سی کی جانب سے گومل یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ایگریکلچر ڈی آئی خان کے درمیان اثاثوں کی تقسیم پر عمل درآمد میں ناکامی کا اظہار کیا گیا۔ پیر کو خیبرپختونخوا کے محکمہ ہائر ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق گورنر نے ڈاکٹر افتخار کو وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کے مشورے پر جبری رخصت پر بھیج دیا ہے۔

یونیورسٹی آف ایگریکلچر ڈی آئی خان کے وائس چانسلر ڈاکٹر مسرورالٰہی کو گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا اضافی چارج سونپا گیا ہے۔ صوبائی کابینہ نے 16 مارچ 2021 کو فیکلٹی آف ایگریکلچر، گومل یونیورسٹی ڈی آئی خان کو مکمل یونیورسٹی آف ایگریکلچر ڈی آئی خان میں اپ گریڈ کرنے کی منظوری دی تھی اور دونوں یونیورسٹیوں کے درمیان اثاثوں کی تقسیم کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ گومل یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ نے بھی اس کمیٹی کی ان سفارشات کی توثیق کی تھی۔ گومل یونیورسٹی کی سینیٹ نے 22 جون 2022 کو اثاثوں کی تقسیم کمیٹی (ADC) کا اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول اثاثوں کی تقسیم کے مسئلے کا پرامن حل نکالا جا سکے۔

اے ڈی سی کا اجلاس قائم مقام گورنر اور گومل یونیورسٹی کے چانسلر کی صدارت میں ہوا اور فیصلہ کیا گیا کہ گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو جولائی کے مہینے میں کابینہ کی تشکیل کردہ کمیٹی کی طرف سے کی گئی اثاثوں کی تقسیم پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔ لیکن ڈاکٹر افتخار اثاثوں کی تقسیم پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہے۔ حال ہی میں یونیورسٹی کے مرکزی کیمپس میں طلبا کے احتجاج اور امن و امان کے مسائل کے پیش نظر وائس چانسلر نے یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیاں بند کر دی تھیں۔

وائس چانسلر نے احتجاج کرنے والے طلبا کے خلاف مقدمات بھی درج کرائے اور یونیورسٹی کے چانسلر کو خط لکھا کہ سابق وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور نے انہیں دھمکیاں دیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل 22 اپریل 2021 کو اس وقت کے گورنر شاہ فرمان نے وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار کو جبری رخصت پر بھیج دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں