ڈیرہ اسماعیل خان: گومل یونیورسٹی کو مقفل کرنے کی منصوبہ بندی کر لی گئی،کلیدی عہدے خالی ہو گئے

گومل یونیورسٹی کو مقفل کرنے کی منصوبہ بندی کر لی گئی،کلیدی عہدے خالی ہو گئے

ڈیرہ اسماعیل خان (نمائندہ خصوصی) جامعہ کو مقفل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔زرعی یونیورسٹی کے قیام کی آڑ میں بحران ذدہ  تاریخی  مادر علمی کو ڈبونے کی سازش پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ فیصلے کے لیے منصفین وہ لوگ بنائے گئے جو زرعی یونیورسٹی سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ایسے لوگوں نے ناانصافی پر مبنی غیر قانونی فیصلہ کر کے اپنی جانب داری کا ثبوت دے دیا ہے۔

انہوں نے اثاثوں کی تقسیم سے متعلق عدالت عالیہ کے حکم کو بھی روندے ڈالا۔  گومل یونیورسٹی کے کئی اہم شعبوں کے زرعی یونیورسٹی میں انضمام کے بعد گومل یونیورسٹی میں ایڈمنسٹریشن کے تمام کلیدی عہدے خالی ہو جائیں گے۔اس وقت گومل یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر مسرور الٰہی بابر بھی زرعی یونیورسٹی سے مستعار لئے گئے ہیں۔

24 ستمبر پشاور میں ہونیوالے گومل یونیورسٹی اور زرعی یونیورسٹی کے ایک مشترکہ سنڈیکیٹ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ویٹرنری کالج آف اینمل سائنسز سمیت گومل یونیورسٹی کے اثاثے زرعی یونیورسٹی کو دے دیے جائیں جبکہ کلیدی عہدوں پر ایڈمنسٹریشن کے افسران بھی اپنے سازوسامان اور وسائل سمیت زرعی یونیورسٹی کو منتقل ہو جائیں گے۔

 سنڈیکیٹ کے اجلاس میں کئے گئے فیصلے کے مطابق گومل یونیورسٹی میں قائم زرعی فیکلٹی، انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ سائنسز، گومل سنٹر برائے بائیو کیمسٹری اور بائیو ٹیکنالوجی ((GCBBکے سلیکشن بورڈ کے بارے میں عدالتی فیصلے کے بعد ایک سلیکشن بورڈ کے ذریعہ ترقی پانے والے ملازمین کو نئے عہدوں کے ساتھ زرعی یونیورسٹی منتقل کیا جا سکے گا۔

گومل یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر نعمت اللہ بابڑ ،ڈپٹی رجسٹرار ڈاکٹر احترام اللہ، کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر صفدر بلوچ یونیورسٹی کے اکلوتے ڈین ڈاکٹر شکیب اللہ سمیت کلیدی عہدوں پرفائز متعدد دیگر افسران بھی زرعی یونیورسٹی منتقل ہو جائیں گے۔ صوبائی حکومت کی مشاورت سے قائم مقام گورنر وچانسلر گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد کو پہلے ہی تین ماہ کی جبری رخصت پر بھیج کر زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلرڈاکٹر مسرور الٰہی بابر کوگومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا ایڈیشنل چارج دے چکے ہیں۔

گومل یونیورسٹی کے اثاثوں کی تقسیم کے بعد وائس چانسلر سمیت تقریباً تمام عہدے گومل یونیوورسٹی میں خالی ہو جائیں گے اور امکان ہے کہ اس سے گومل یونیورسٹی میں انتظامی بحران پیدا ہو جائے گا، حالانکہ گومل یونیورسٹی میں پہلے ہی ملازمین کو کئی ماہ کی تنخواہ اور پنشنروں کو پنشن نہیں مل رہی ہے۔سینڈیکیٹ کے 122 ویں اجلاس میں فیصلہ کر کے اثاثہ جات کی تقسیم کی کمیٹی کو مکمل طور پر اختیار دیا گیا ہے کہ وہ تمام اثاثے گومل یونیورسٹی سے زرعی یونیورسٹی کو منتقل کرے جن کا فیصلہ قبل ازیں سینڈیکیٹ کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔فیصلہ کے مطابق زرعی یونیورسٹی منتقل ہو نے والے اہلکار وافسران اپنے موجودہ عہدے کے ساتھ جائیں گے۔ اور ان سے منسلک شعبوں میں کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین جن کااثاثہ جات تقسیم کمیٹی میں ذکر ہے ان کو بھی زرعی یونیورسٹی میں منتقل کیا جائے گا۔

 اور وہ ملازمین جنہوں نے اس دوران پنشن حاصل کر لی ہے وہ تمام ریٹائرڈ تصور ہوں گے اور انہیں پنشن گومل یونیورسٹی ادا کرے گی۔ اس موقع پراجلاس میں سنڈیکیٹ ممبر جسٹس (ر) داؤد احمد نے اس بارے میں اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ زرعی یونیورسٹی منتقل کئے جانے والے ملازمین کو اپنی سابقہ حیثیت میں زرعی یونیورسٹی منتقل کیا جائے۔ یاد رہے کہ اثاثہ جات کمیٹی کے منٹس میں کہا گیا تھا کہ گومل یونیورسٹی سلیکشن بورڈ نہیں کرے گی تاہم اس دوران گومل یونیورسٹی  کے وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے گزشتہ سال پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر پشاور ہائیکورٹ نے ڈاکٹر افتخار احمد کو اپنے عہدے پر بحال کر کے گومل یونیورسٹی کے اثاثہ جات کی تقسیم اورگومل یونیورسٹی کے وسائل پر زرعی یونیورسٹی کے قیام کے خلاف دیا تھا۔

اس عدالتی فیصلہ کے آنے کے بعد گومل یونیورسٹی انتظامیہ نے سلیکشن بورڈ کر کے اساتذہ کو ترقیاں دی تھیں۔

ایک سینئر قانون دان پروفیسر نثار صفدر نے کہا ہے کہ فیکلٹی آف ایگریکلچر کا قیام یونیورسٹی ایکٹ کے خلاف اور اس کے خلاف وہ عدالت بھی جا چکے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ دلچسپ امر یہ ہے کہ گومل یونیورسٹی کے اثاثوں سنڈیکیٹ اجلاس میں بیک وقت گومل اور زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر ایک ہی شخص پروفیسر ڈاکٹر مسرور الٰہی بابر نے صدارت کی ہے جو خود ایک مخالف فریق ہیں اور گومل یونیورسٹی کے اہلکار اثاثوں کی تقسیم کے خلاف ہیں۔

پروفیسر نثار صفدر نے کہا کہ مخالف ادارے کا سربراہ دوسری یونیورسٹی کا چارج لے کر فیصلے کرنے میں انصاف کیسےکر سکتا ہے؟

سنڈیکیٹ کے اجلاس میں حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے حکم صادر کیا گیا کہ گومل یونیورسٹی کی بسوں کو یونیورسٹی میں رہنے دیا جائے گا اور انہیں زرعی یونیورسٹی منتقل نہیں کیا جائے گا۔

 یاد رہے کہ سنڈیکیٹ اجلاس میں گومل یونیورسٹی اور زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر مسرور الٰہی بابر شریک ہوئے جو دونوں یونیورسٹیوں کی نمائندگی کر رہے تھے جبکہ گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو اسی اجلاس سے قبل تیسری بار تین ماہ کی جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔

اجلاس کے فیصلے کے مطابق جسٹس (ر)داؤداحمداور پروفیسر ڈاکٹر خان بہادر مروت پر مشتمل  ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جواس بات کا تعین کرے گی کہ انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سا ئنسزجو ڈیپارٹمنٹ آف اکنامکس اور ڈیپارٹمنٹ آف ایگری کلچراکنامکس پر مشتمل ہے کیا یہ زرعی یونیورسٹی کا حصہ ہو گا یا نہیں؟

 اجلاس میں زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر مسرور الٰہی بابر نے اس بات پر زور دیا کہ ہم بھرپور کوشش کریں گے کہ دونوں یونیورسٹیوں کے خسارے کے خاتمے کے لئے حکومت سے بیل آؤٹ پیکج حاصل کریں تاکہ دونوں اداروں  کوخسارے سے نکالا جا سکے۔

اجلاس میں شریک ہایئر ایجوکیشن اتھارٹی کی جانب سے نامزد نمائندے ڈاکٹر خان بہادرنے اس موقع پر ساری صورتحال سے خود کو الگ رکھتے ہوئے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ تاحال پشاور ہائیکورٹ میں پٹیشن نمبر WP3103-P/2022 کے تحت زیر سماعت ہے لہٰذا وہ اس کا حصہ نہیں بن سکتے۔اجلاس میں سنڈیکیٹ ممبران حفیظ اللہ ڈپٹی رجسٹرار Quality Enhance comttee(QEC)ْؑ اوراسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی ٹی (وینسم کالج)محمد جنید سراجی نے بھی ڈاکٹر خان بہادر مروت کے موقف کی تائید کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں