سپریم کورٹ سے ہزاروں افراد کو بے روزگار کرنے کا عدالتی پروانہ, کسی انسانی المیہ سے کم نہیں …!!!

ٹرانسجینڈر رائٹ پروٹیکشن ایکٹ حقائق اور قومِ یوتھ کا جھوٹا پراپیگنڈا و گٹر تھنکنگ اپروچ ….. !!!

تحریر: ابن آدم : کالم چوگلیہ

اللہ و اسکے حبیب پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے کہ کسی انسان کے جھوٹے ہونے کیلئے یہی دلیل کافی ہے کہ وہ کسی سنی سنائی بات کو بنا کسی شواہد و تحقیق کے آگے بڑھا دے , یہی کچھ آجکل یوتھیاز دی گریٹ کہ جھوٹ جنکی گھٹی میں پڑا ہے وہ ٹرانسجینڈر رائٹ پروٹیکشن ایکٹ یا خواجہ سراؤں کے حقوق کا بل کے حوالے سے کر رہے ہیں کہ دیکھیں جی پاکستان جیسے اسلامی ملک میں اس بل کی وجہ سے ” ہم جنس پرستی ” عام ہو جائے گی اور اس بل کے بعد ایک مرد کو دوسرے مرد سے اور ایک عورت کو دوسری عورت سے شادی کرنے کا لائیسنس مل جائے گا وغیرہ وغیرہ “

اب اس جھوٹے پراپیگنڈا کرنے والے کسی ایک بھی یوتھیا سے آپ یہ پوچھیں کہ کیا آپ نے یہ بل پڑھا ہے ؟ اور اس بل کی کس شق میں یہ بات یا یہ شرط درج ہے کہ ہم جنس پرستی کو آئینی تحفظ مل جائے گا ؟ تو یقین کریں کہ کوئ ایک یوتھیا بھی ایسا دستیاب نہیں ہوگا کہ جس نے ٹرانسجینڈر بل خود پڑھا ہو یا وہ اس بل کی اس قسم کی کسی شق کا آپکو دستاویزی حوالہ پیش کر سکے گا , بس انکا جھوٹ چونکہ انکی گھٹی و انکی پہلی خوراک ہے۔ سو وہ اپنی اسی فطری نمو کے تحت پراپیگنڈا کرتے جا رہے ہیں اور بیشک اس معاملے میں وہ اپنا ثانی نہیں رکھتے , اور اب تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ جب سے اس دنیا پر حضرت انسان نے قدم رنجائ فرمائ ہے کہ تب سے اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کے ساتھ ساتھ ایک تیسری جنس کہ جسکو عرف عام میں خواجہ سراء , ہیجڑا یا کھسرا کہتے ہیں وہ بھی پیدا ہوتے چلے آ رہے ہیں ۔

طبی ماہرین کے نزدیک یہ ایک ہارمونز , جینیٹکلی وجہ ہوتی ہے کہ جسکی وجہ سے بعض لڑکے اپنی پیدائش کے کچھ عرصے بعد اپنے جسمانی سٹرکچر کے اندر کچھ ایسی جسمانی تبدیلیاں محسوس کرنے لگتے ہیں کہ ان میں زنانہ خواص و عادات کی طرف مائل ہونے کے رحجان کو تقویت ملتی ہے , اس جیناتی ہارمونز تبدیلی کا ایک اثر انکی آواز پر بھی پڑتا ہے جبکہ اسی طرح کچھ لڑکیاں پیدائش کے کچھ عرصے بعد اپنے اندر مردانہ صنف کے اثرات محسوس کرنے لگتی ہیں۔

انکے بعض انسانی اعضاء , انکی آواز , انکے مشاغل یا شوق وغیرہ انکے مکمل زنانہ ہونے کی نفی کرتے ہیں , پھر ان دونوں اقسام میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ان میں مردانہ رحجان یا تبدیلی کتنے فیصد ہے اور زنانہ رحجان یا تبدیلی کتنے فیصد ہے اور اب چونکہ میڈیکل سائنس بہت زیادہ ترقی کر چکی ہے تو اس شعبے سے وابستہ ڈاکٹر , سرجن حضرات اس تناسب سے انکے کچھ آپریشن , سرجری اور ادویات وغیرہ کی مدد سے انکی اس تیسری جسمانی ساخت یا انکی اس ادھوری جنس کو مکمل مرد یا مکمل عورت کا روپ بھی دے رہے ہیں۔

لیکن ان میں ہر کیس کی ایک علیحدہ ہسٹری ہوتی ہے لیکن اس جدید میڈیکل ترقی کے باوجود کئ کیس ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو ناقابل علاج تصور کئے جاتے ہیں اور ان بیچاروں کو اپنی ساری زندگی اسی تیسری جنس کے تشخص کے ساتھ ہی گزارنی پڑتی ہے۔ حالانکہ ان میں انکا کوئ ذاتی قصور نہیں ہوتا لیکن انکی یہ کمی یا یہ تشخص ساری عمر کیلئے انکے معاشرتی استحصال , تضحیک اور انکے سماجی حقوق میں تفریق روا رکھنے کا باعث بن جاتا ہے۔

حالانکہ بحیثیت شہری انکے وہی حقوق ہیں جو کہ ہم باقی تمام افراد کے ہیں لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ ہمارے ہاں حکومتی و عوامی سطح پر انکے بطور شہری حقوق اور بحیثیت انسان انکی تکریم کے حوالے سے سخت غفلت برتی جاتی ہے اور دوران زندگی بلکہ انکی موت کے وقت بھی ہم ان سے شدید امتیازی و غیر انسانی سلوک کرتے ہیں کہ جسکی نہ اسلام میں کوئ اجازت دیتا ہے اور نہ مہذب معاشروں میں اسکی کوئ گنجائش ہے , ان بیچاروں کو تعلیم , روزگار , علاج معالجے , سرکاری ملازمتوں اور دیگر شہری و حکومتی ذمہ داریوں کے معاملات میں ایک اچھوت سمجھ کر دھتکار دیا جاتا ہے۔

اور انکے وجود اور انکی صلاحیتوں کو ہم عمومی طور پر گانے بجانے , رقص اور شہوانی سرگرمیوں میں ہی جلا بخشتے ہیں اور شروع دن سے انکا مورال اس قدر پست کر دیتے ہیں کہ یہ بیچارے خود بھی کئ ذہنی و نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہوکر اپنے آپ کو ہمارے اس معاشرے کا تیسرے درجے کا شہری سمجھ کر اپنی زندگی کو ایبک بوجھ یا دوسروں کی دی ہوئ بخشیش کے طور پر گزارتے ہیں جبکہ ہماری تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ یہ لوگ قرون اولی کے کئ شاہی درباروں میں انکی اہمیت و مقام بطور ” اتالیق ” ہوا کرتا تھا کہ جس سے انکے سماجی قد کاٹھ یا رتبے کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے , یہ لوگ شاہی درباروں میں مشیر کی حیثیت سے بھی کام کرتے تھے جبکہ خود حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات طیبہ اور پھر انکی قیادت میں تشکیل پانے والی ریاست مدینہ میں بھی ان خواجہ سراؤں کے سماجی حقوق کا بڑا خیال رکھا جاتا تھا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی کے دور میں ریاست کی طرف سے انکے باقاعدہ وظائف تک مقرر کئے گئے تھے تاکہ بطور شہری ان سے امتیازی سلوک نہ برتا جائے ۔

اب موجودہ ترقیاتی دور کے کئ مغربی ممالک میں ان ٹرانسجینڈر طبقے کو بطور شہری وہ تمام حقوق و مواقع فراہم کئے جاتے ہیں جو کہ ان ممالک کے دیگر خواتین و حضرات کو میسر ہیں لیکن پاکستان کا اس حوالے سے ٹریک ریکارڈ بہت خراب ہے کیونکہ آزادی کے پچھتر سال گزرنے کے باوجود بھی ہم ریاستی یا حکومتی سطح پر اللہ کی اس مخلوق کے حقوق بارے کوئ جامع پالیسی یا قانون سازی تشکیل نہیں دے سکے ہیں , یہاں تک ان بیچاروں کو نہ شناختی کارڈ نہ پاسپورٹ , نہ سرکاری ملازمتوں میں انہیں بھرتی ہونے کی کوئ سہولت حاصل رہی نہ ہماری صوبائی و قومی اسمبلی میں ان کی نمائندگی کے حوالے سے مخصوص نشستیں مقرر و مختص کی گئیں اور نہ انکی تعلیم و تربیت کے کوئ مخصوص ادارے قائم کئے گئے بلکہ یہاں تک جب ٹرانسجینڈر سے تعلق رکھنے والا کوئ ” شی میل ” یا ” ہی میل ” فوت ہوتا ہے تو انکی کفن دفن اور جنازے کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ بھی بحیثیت ایک انسانی یا اسلامی معاشرہ ہونے کے ناطے ہمارے لئے بہت شرم و افسوس کا مقام ہے ۔

کیا یہ انسان اور اللہ کی مخلوق نہیں ہیں ؟؟؟ باقی رہا انکے کردار کا سوال تو کیا ہم سب یہ جو دکھاوے کے حاجی و قاضی بنے پھرتے ہیں تو کیا ہم نے کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر اپنے کردار اور کالی کرتوتوں کا کبھی محاسبہ کیا ہے ؟ انکو رقص و سرور کی محفلوں میں نچوانے والے اور انکو اپنی جنسی حیوانگی کا نشانہ بنانے والے وہ تو خواجہ سراء نہیں ہوتے پھر وہ کیوں معززین کا سٹیٹس رکھتے ہیں ؟ بطور انسان انکا تمسخر اڑانے والے , انکی تذلیل کرکے انکی دل آزاری کرنے والے کل جب روز محشر سلطان افلاک کی عدالت و دربار میں پیش ہوں گے تو پھر بتائیں ان سے انکے ان اعمال اور رویوں کا حساب کتاب نہیں ہوگا ؟ لہذا اس ساری صورت حال میں ضرورت اس امر کی تھی کہ ان ٹرانسجینڈر یا خواجہ سراء مخلوق کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے حکومتی سطح پر کوئ جامع قسم کی پالیسی , کوئ آئینی بل وغیرہ پاس کرکے اپنی ریاستی ذمہ داری پوری کی جاتی ۔

اس سلسلے میں پہلی بار میاں نواز شریف کے پچھلے دور حکومت میں قومی اسمبلی میں اس قانون سازی پر کچھ عملی پیش رفت کی گئ تھی کہ انکو قومی شناختی کارڈ , پاسپورٹ کی فراہمی , انکو سرکاری ملازمتوں کی فراہمی , تعلیمی اداروں میں داخلے کی سہولت دینے , انکے ووٹ کا اندارج اور قومی مردم شماری سمیت دیگر کئ حقوق دیئے جائیں اور انکے خواجہ سراء ہونے کو حکومتی یا آفیشل سطح پر تسلیم کیا جائے اور انکی اس ٹرانسجینڈر حیثیت کا بابقاعدہ اندراج ہو یا اسے بطور سند تسلیم کیا جائے اور اس سند کیلئے کوئ باقاعدہ بورڈ , اتھارٹی یا ادارہ قائم کیا جائے کہ جو انکی اس خصوصی حیثیت کو ویریفائ یا تصدیق کے عمل سے گزار سکے دوسرے لفظوں میں انکی سرکاری سطح پر رجسٹریشن ہو اور اسکے ساتھ اگر ان میں سے کوئ خواجہ سراء ” شی میل بننے یا ہی میل ” بننے کی جسمانی ساخت رکھتا ہے تو اسکا بھی کوئ باقاعدہ و مستند ترین میکنزم ہونا چائیے یہ نہ ہو کہ جس کا جی چاہے وہ بغیر کسی میڈیکل بورڈ اتھارٹی کی منظوری کے منہ اُٹھا کر نادرا کے دفتر جا کر اپنی جنس تبدیلی کا سرٹیفیکیٹ لے آئے ۔

یہ ہے وہ کلی حقیقت کہ جسکو یوتھیاز نے بلکل نظر انداز کرکے اس اہم آئینی بل کو ہم جنس پرستی یا فحاشی و زناکاری کا بل قرار دیکر اودھم مچا رکھا ہے کہ جی پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت کہ جس میں مولانا فضل الرحمن جیسی بڑی و قومی مذہبی شخصیت بھی شامل ہے کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنا رکھا ہے کہ کہاں گئ انکی مذہبی حمیعت اور اخلاقی اقدار , حالانکہ یہ سب نرا جھوٹ ہے اور یوتھیاز کے پیٹ کی مروڑ کچھ اور ہے جو مرکز میں انکی اقتدار سے محروم ہو جانا ہے .

یہ اپنے پیٹ کی اس مروڑ یا اسکے دردِ قولنج کی حالت یہ ہے کہ جب 2018ء میں پی ٹی آئ کی حکومت آئ تھی تو انہوں نے میاں نواز شریف دور کے اس ٹرانسجینڈر رائٹ پروٹیکشن بل کا بھرپور دفاع اور اسے انسانی حقوق و سماجی آزادیوں کے تحفظ کے حوالے سے بہت بڑی آئینی کامیابی قرار دیا تھا اور اب تو ساری دنیا نے پی ٹی آئ حکومت کی اس وقت کی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیری مزاری کی وہ وڈیو بھی دیکھ چکی ہے کہ جس میں شیری مزاری صاحبہ قومی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر نہ صرف اس ٹرانسجینڈر بل کا بھرپور دفاع دفاع کر رہی ہیں بلکہ اس حوالے سے خواجہ سراؤں کی جنس تبدیلی عمل کی خاطر کسی میڈیکل بورڈ کو تشکیل دینے کے عمل کو رشوت بازاری کا ایک نیا باب کھولنے سے بھی تعبیر کر رہی ہے ۔

اور جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق صاحب نے ٹرانسجینڈر بل کی اسی شق میں تبدیلی کیلئے اپنی سفارشات سینیٹ میں جمع کروا رکھی ہیں کہ جنکو زیرِ غور لایا جانا چائیے کیونکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بدلتے زمینی حقائق و تقاضوں کے مطابق انسانی سہولیات و انکی بہتری کے حوالے سے یا امور مملکت چلانے کیلئے بنائے گئے انسانی قوانین میں ترامیم کی گنجائش ہر دور میں موجود رہتی ہے اور ان میں کمی بیشی کی جا سکتی ہے کہ جسکی ایک واضح مثال 1973 ء میں ہمارے متفقہ طور پر پاس کئے گئے آئین پاکستان میں بھی اب تک مجموعی طور 21 آئینی ترامیم ہو چکی ہیں , اسی طرح اس ٹرانسجینڈر ایکٹ یا بل میں بھی مزید اچھی ترامیم لائ جا سکتی ہیں اور اس میں کوئ حرج نہیں ہے لیکن سوشل میڈیا پر یوتھیز کی طرف سے اس بل کو ہم جنس پرستی کا بل قرار دینے والے انکے پراپیگنڈے میں رتی بھر بھی کوئ صداقت نہیں ہے اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ ان جہلائے مطلق کو یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ کوئ نیا بل نہیں ہے بلکہ 2018 میں انکی حکومت کے قیام اور پھر چار سال تک حکومت برقرار رہنے تک یہ بل نافذ العمل رہا ہے اور انکی باجئ اعظم شیری مزاری اسکا کریڈٹ لیتی رہی ہیں , واضح رہے کہ یہ ٹرانسجینڈر بل قومی اسمبلی کی ویب سائیڈ پر مکمل طور پر موجود ہے کہ جو کل گیارہ صفحات پر مشتمل ہے اور جس جنس تبدیلی عمل کا یہ ہم جنس پرستی و زنا خوری کا روپ دیکر اپنی فحش فطرت کا ثبوت دے رہے ہیں وہ اس بل کی شق نمبر تین کی جز ایک ہے ۔

لہذا آپ تمام قارئین سے گزارش ہے کہ وہ یوتھیز کی طرف سے پھیلائے گئے اس گند و کٹر تھنکنگ کا شکار ہونے کی بجائے قومی اسمبلی کی ویب سائیڈ پر مو لجود یہ ٹرانسجینڈر بل اور اسکی تمام شقوں بشمول اسکی شق نمبر تین اور جز ایک کو پوری تفصیل و استراحت سے پڑھ لیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے کیونکہ اس بل پورے بل میں یوتھیز کی تشریح کردہ ہم جنس پرستی کو آئینی تحفظ دینے یا اسکی راہ ہموار کرنے کا ایک لفظ , ایک حرف تک بھی کہیں موجود نہیں ہے لیکن اس سب کے باوجود اس کی جنس تبدیلی والی شق پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے کیلئے ماہر نفسیات کی نگرانی میں ڈاکٹرز کا پورا میڈیکل بورڈ لازماً ہونا چاہیئے تاکہ جنس تبدیلی کے عمل کی آڑ میں کوئ اسکا ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکے دوئم ملک کے جیّد علمائے کرام اور قومی اسمبلی , سینیٹ میں موجود ہماری مذہبی جماعتیں اس بل کا ایک دفعہ پھر جائزہ لیتے ہوئے اسکی کسی شق کو اسلامی تعلیمات و احکامات کے خلاف پائیں تو انکو کالعدم قرار دیکر اس بل میں اپنی سفارشات و ترامیم بھی لازمی تجویز فرمائیں تاکہ اس حوالے سے عوام اور دینی حلقوں میں پائے جانے والے اضطراب و تشویش کو ختم کیا جا سکے۔

باقی بڑی معذرت کے ساتھ کہ دین سے بیزار یہ یوتھیز اور انکا ساری عمر پلے بوائے امیج رکھنے اور سیکس سکینڈلز کی زد میں رہنے والہ کہ جسکی ایک ثابت شدہ ناجائز بیٹی بھی موجود ہے انکا لیڈر بھلا کب سے اور کیسےدین کے محافظ بن بیٹھے ہیں ؟؟؟ کیا ان یوتھیز کی سابقہ امی جان ریحام خان نے انکے لیڈر متعلق اپنی کتاب کے صفحہ 71 سے لیکر صفحہ 75 تک جو لکھا ہے تو ہم جنس پرستی کے سارے فتوے تو انکی اپنی لیڈر شپ پر صادق بیٹھتے ہیں , اس لئے یوتھیز ہم جنس پرستی کی تعلیم و ترغیب کا اگر واقعی کوئ” کُھرا و کھوجی ” ڈھونڈنا چاہتے ہیں تو اپنی اعلی قیادت میں تلاش کریں ملک کے دیگر سیاسی رہنماؤں اور سیاسی جماعتوں کو اپنی اس گٹر تھنکنگ و جھوٹے پراپیگنڈے سے معاف رکھیں تو انکے حق میں زیادہ بہتر ہوگا ۔

بے شک جھوٹے انسان کیلئے یہی کافی ہوتا ہے کہ وہ سنی سنائ باتوں کو بغیر کسے شواہد و تصدیق کے آگے پھیلاتا ہے ( قرآن و حدیث ) اسی طرح اللہ و اسکے حبیب پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایسی عورتوں پر جو کہ پیدائشی طور پر مکمل عورت پیدا ہوئ ہوں اور ایسے مردوں پر جو کہ پیدائشی طور پر مکمل مرد پیدا ہوئے ہوں تو وہ مخالف جنس کی طرح پہناوے پہنیں , انکی نقل اتاریں انکی محافل میں وقت گزاریں , ان جیسے فیشن میک اپ وغیرہ کریں یا ہم جنس پرستی, لواطت کریں ایسی تمام عورتوں پر ایسے تمام مردوں پر لعنت فرمائ ہے اور یہ سب گناہ کبیرہ کے مرتکب اور روزِ محشر اللہ کے سخت عذاب تلے ہوں گے اور چونکہ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی مملکت اور اسلام پسندوں کا ملک ہے تو یہاں ہم جنس پرستی یا زنا و فحاشی کو فروغ دینے والے کاموں کیلئے کیسے قانون سازی کی جا سکتی ہے اور کون خبیث یہ جرأت کر سکتا ہے لہذا عوام خوب تسلی رکھیں کہ ایسا کچھ نہیں ہونے جا رہا کہ جسکا پراپیگنڈا قومِ یوتھ اس وقت کر رہی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں