غزہ اور پھر ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد یہ بات دنیا کے سامنے آگئی ہے کہ تمام اسلامی ممالک اس امریکا سے ڈرتے رہے ہیں جو مسلمانوں کے حق میں نہایت سفاک ثابت ہوا ہے۔
مسلم ممالک کے حکمران اگر جہاد پر یقین رکھتے اور اﷲ کے احکام کی پیروی اور رسول پاک ﷺ کے غزوات کو یاد رکھتے یا پھر اپنے لیے ایک ایسا لائحہ عمل تیار کرتے جس کی رو سے انھیں سورہ ’’نصر ‘‘ یاد آجاتی کہ کس طرح مسلمانوں نے فتح حاصل کی ’’ جب اﷲ کی مدد اور فتح آ پہنچے اور آپ لوگوں کو دیکھ لیں کہ وہ اﷲ کے دین میں جوق در جوق داخل ہورہے ہیں تو آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تشکر فرمائیں اور اس سے استغفار کریں بے شک وہ بڑا ہی توبہ قبول فرمانے والا ( اور مزید رحمت کے ساتھ رجوع فرمانے والا) ہے۔
خلیجی ریاستیں تیل کی دولت سے مالا مال ہیں اس حقیقت سے سب واقف ہیں کہ امریکاکا مقصد ملکوں کو تہہ و بالا کرکے تیل کے کنوؤں پر قابض ہونا ہے اور وہ یہ شرمناک کام کرتا ہی رہتا ہے ،اپنے مفاد کے لیے وہ سب کچھ بلا خوف و خطر کرکے پوری دنیا پر اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے۔
بڑی حد تک دشمنان اسلام ایسا کرچکے ہیں ایسی خوفناک صورت حال کے پیش نظر مسلم ممالک، اسلامی ملکوں کی تباہی اور معصوم جانوں کی شہادت پر تماشائی بنے رہے، ان کے اس طرز نے یہود و نصاری کا حوصلہ بڑھایا اور وہ امت مسلمہ کے عوام و خواص کو تر نوالہ سمجھنے لگے ،مسلمان ممالک کو دوستی کے بدلے میں شکست و ریخت، ذلت و رسوائی مختلف شکلوں میں پیش کرنا ان کا شیوہ بن گیا ہے کبھی لوٹ مار تو کبھی مسلم حکمرانوں کو عدالتوں میں گھیسٹ کر ان کی تضحیک کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں انھیں جانوروں کی طرح پنجروں میں قید کرکے لایا جاتا ہے۔
مسلم حکمرانوں کو پھانسی دی جاتی ۔ ہتھیاروں کی تلاش کے بہانے عراق میں جو بربریت کی داستان رقم کی اور صدام حسین کو محض مسلمانوں سے ازلی دشمنی اور نفرت کی بنا پر تختہ دار پر چڑھایاگیا۔ افغانستان اور شام پر بھی امریکا اور اس کے حواریوں نے دھاوا بولا اور دیکھتے ہی دیکھتے تہہ و بالا کردیا، اس قدر زور زبردستی اور دادا گیری کے تحت امت مسلمہ کو کمزور کرنے کی سازش بھی بے نقاب ہوچکی ہے بلکہ امریکا اور مسلمانوں کے دشمنوں کی چالیں سب کے سامنے عیاں ہوگئی ہیں ان تمام حقائق جاننے کے باوجود مسلم حکمرانوں نے دولت ، طاقت ہونے کے باوجود خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔
دنیا کے حالات کس طرح بدلے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں ۔ ایران جسے چھوٹا ملک سمجھتے تھے اور اپنی دھونس و زبردستی کے تحت ایران کو ایٹمی طاقت بننے میں بے شمار پابندیاں اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کی ہر روز ایک نئی دھمکی سامنے آتی تھی۔ اگر ایران ایٹمی طاقت بننے جارہا ہے تو انھیں کیا تکلیف ہے؟
وجہ یہ ہے کہ امریکا پوری دنیا پر حاوی ہونا چاہتا ہے اور وہ اس کے لیے خاک وخون کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہے لیکن حالیہ صورت حال نے یہ بات واضح کردی ہے۔ عروج کو زوال اور مجرم ایک نہ ایک دن ضرور گرفت میں آجاتا ہے تمام ثبوتوں کے ساتھ اور پھر یہ تو بین الاقوامی ثبوت دنیا کے سامنے آگئے۔
ایران، ایمان کی طاقت کے ساتھ میدان جنگ میں کودا اور اپنے سے کئی گنا بڑے حریف کا مقابلہ کیا بلکہ اسرائیل و امریکا کے ناکوں چنے چبوا دیے۔ انھیں ہرگز ایران سے یہ امید نہیں تھی کہ امریکا ایران جنگ میں وہ جھکے گا نہیں بلکہ جھکائے گا ۔
امریکا ، ایران جنگ پر مذاکرات کے لیے ایران نے شرائط عائد کی ہیں یہ ہی اس کی جیت ہے۔ پہلی شرط تو یہ ہے کہ ایران کے تمام اخراجات اور نقصانات کی فوری ادائیگی ، دوسری یہ کہ امریکا اسرائیل کی حمایت اور پشت پناہی سے دست برداری کا اعلان کرے۔ نمبرتین، اسرائیل اپنے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے اعلان کرے۔
نمبر چار۔ امریکا اور اسرائیل علاقائی غنڈہ گردی سے دستبرداری کا اعلان کریں۔ نمبر پانچ۔ امریکا اپنے تمام اڈوں اور فوجی سازوسامان کو اپنی حدود میں رکھے۔ نمبر چھ ،امریکا اور اسرائیل اعلان کریں کہ وہ ایران سمیت کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت نہیں کریں گے۔ انٹرنیشنل پیس آرمی (پیسا) IPA کی طرف سے جاری کردہ شرائط۔
اﷲ کے فضل و کرم سے ایران پوری دنیا میں سرخرو ہوا ہے وہ قوت ایمانی کی بدولت امریکا و اسرائیل کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح سامنے آیا ہے۔ اس وقت ہم سب کا فرض ہے کہ ہم ایران کا ساتھ دیں ، تفرقے میں پڑنے کی بجائے اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں تاکہ اتحاد کی بدولت ایک مضبوط قوم کی طرح سامنے آئیں۔
اپنے کرتوتوں اور تعیشات زندگی کی بدولت بہت ذلیل و رسوا ہوئے ہر جگہ حقارت سے دیکھے گئے۔ رسول پاکﷺ اور نہ ہی صحابہ اکرام کی زندگیوں کو نمونہ بنایا اور نہ ہی مسلمانوں کے عظیم سپہ سالاروں کی جنگی خدمات کو مدنظر رکھا۔ حضرت خالد بن ولید ؓ ، طارق بن زیاد کی عظیم فتوحات کو یکسر بھلاکر مغرب کے جال میں ایسا پھنسے کہ نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔
اپنی اولادوں کی زندگیاں مغربی بود و باش اور رسم و رواج کے سپرد کردیا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ دلفریب دھوکہ ہے سحر اور جادوگری ہے جس نے عقل کے پردوں پر شب خون مارا ہے اور دین و دنیا کی کامیابی چھین لی ہے ۔ آخر خواب غفلت میں کب تک پڑے رہیں گے؟ اب وہ وقت آنے والا ہے جس کا ذکر قرآن و حدیث میں موجود ہے کہ قرب قیامت کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ لوگ جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہوں گے وہ کذب و حق کو پہچان لیں گے اور یہودی اپنے برے انجام کو پہنچیں گے۔
کامیابی عزت و توقیر اس ہی وقت میسر آئے گی جب اﷲ کے احکام مان کر اسلام کی سربلندی کے لیے کام کریں گے۔ تب انشاء اﷲ کفار تلوے چاٹنے پر مجبور ہوجائیں گے اور ایسا عنقریب ہونے والا ہے۔


