امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث جنگ کے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
تازہ رپورٹس کے مطابق امریکا کا طیارہ بردار بحری بیڑا USS Gerald R. Ford بحیرہ روم میں داخل ہوگیا ہے، جس پر درجنوں لڑاکا طیارے تعینات ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پرتگال میں امریکی فضائی اڈوں پر بھی لڑاکا طیاروں نے پوزیشن سنبھال لی ہے، جبکہ ایک امریکی اخبار کا دعویٰ ہے کہ اردن کے ایک ایئربیس پر کم از کم 60 لڑاکا طیارے موجود ہیں۔
برطانوی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ممکنہ حملے کی صورت میں امریکا ایرانی قیادت کو براہ راست نشانہ بنا سکتا ہے اور ایرانی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب ایران نے بھی سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ عالمی طاقتیں ایران کو دباؤ میں لا کر جھکانے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن ایران کسی بھی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے تیار ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو ممکنہ معاہدے کے لیے 10 سے 15 روز کا الٹی میٹم دیا تھا، جس کے بعد خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے حالیہ اقدامات سے مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے اور عالمی برادری کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دے رہی ہے۔









