قصور:
قصور میں لیڈی کانسٹیبل کو ہراساں کرنے، جعلی نکاح نامہ تیار کرنے اور سنگین دھمکیاں دینے والے پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس ترجمان کے مطابق قائم مقام ڈی پی او محمد ضیاء الحق نے وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے تحت واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری سخت کارروائی کا حکم دیا جس کے بعد ملزم کانسٹیبل اصغر علی کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے حوالات میں بند کر دیا گیا۔
درخواست کے مطابق ملزم گزشتہ تین ماہ سے لیڈی کانسٹیبل گلفشاں کو ہراساں کر رہا تھا اور اسے دھمکی آمیز پیغامات بھیج رہا تھا۔
ملزم نے تیزاب گردی اور زہر کا انجکشن لگانے جیسی سنگین دھمکیاں بھی دیں۔
متاثرہ لیڈی کانسٹیبل کا کہنا ہے کہ ملزم نے اس کے نام سے جعلی نکاح نامہ بھی تیار کر رکھا تھا، حالانکہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہے۔
ڈی پی او قصور نے واضح کیا کہ خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔




