اللہ نے جب مجھے پارلیمانی اداروں میں جانے کا موقع دیا تو میں نے ان کے حق کے لیے آواز اٹھائی اور یہ باورکرواتے ہوئے قانون سازی کی کہ یہ ادھورے لوگ ہمارا امتحان ہیں، لہٰذا اپنے خصوصی فنڈ اور KMC کے تعاون سے کشمیر روڈ کراچی میں ملک کا سب سے بڑا اسپورٹس کمپلیکس برائے معذور افراد قائم کیا اور اس کے اندر ہی ایک ری ہیب سینٹر بھی بنایا ہے۔
جہاں ان لوگوں کو کھیل کود کے دوران چوٹ لگ جانے یا گر جانے کا مسئلہ در پیش آئے یا کوئی اور جسمانی تکلیف سر اٹھا لے تو ان کی بر وقت امداد کے لیے یہاں رضا کارانہ کام کرنے والے ڈاکٹر موجود ہوتے ہیں۔
انھی تناظر میں ہم نے ایک پروگرام اور تشکیل دیا جس میں طلبا وطالبات کے علاوہ ان لوگوں کو بھی شامل کیا جائے گا جو رضا کارانہ طور پر اپنا وقت دے کر اللہ کے اس پیغام کو سمجھنے کی کوشش کریں، کیونکہ یہ بھی عبادت ہے کہ کس طرح ان معذور لوگوں کو آپ کی قربت سے انھیں محرومی کے احساس سے بچایا جاسکتا ہے، لہٰذا اس اسپورٹس کمپلیکس میں ہی تربیتی کلاسز کا انعقاد ہوگا جو تعمیر کے مراحل میں ہے اور اس سبجیکٹ کا نام رکھا گیا ہے۔
(معذوروں کے ساتھ آپ کا برتاؤ کیسے) (HOW TO HANDLE PERSON WITH DISABILITY) کیونکہ جب کوئی انسان معذوری میں چلا جاتا ہے کسی بیماری کے سبب یا کسی حادثے کی بنیاد پر یا کسی کے گھر معذور بچے کی پیدائش ہو جائے تو ان لوگوں کو نہیں معلوم ہوتا کہ اس کی دیکھ بھال کس طرح کی جائے گی، کیسے اٹھایا یا بٹھایا جائے گا کس طرح خاص نوعیت کی بیماری میں اس کو لٹایا جائے گا یا اگر وہ لڑکی ہے تو اس کے مسائل زیادہ ہیں؟
تو اس کی دیکھ بھال کیسے کرنی پڑے گی۔ اس کے علاوہ معذوروں کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک کس طرح منتقل کیا جاتا ہے؟ کس قسم کی سواری کی ضرورت کسی معذور کے لیے بہتر ہوگی؟ کسی ایمرجنسی کی صورت میں پہلے فرسٹ ایڈ باکس (ابتدائی طبی امداد) کس طرح دینی ہوگی؟
عام حالات میں کس طرح کسی معذورکو کیسے کھانا کھلانا ہے؟ مشروب یا پانی کیسے پلانا ہے؟ واکنگ کا طریقہ کیا ہوگا؟ کس طرح ان کو چہل قدمی کروانا ہے؟ رات کے وقت کیا کرنا ضروری ہوگا؟ ٹوتھ پیسٹ کیسے کروانا ہے؟ واش روم کی ضرورت ہوگی توکیا کرنا ہوگا؟
اورکیسے اس کی ضرورت کو دیکھا جائے گا؟ اگر کوئی معذور بول نہ سکتا ہو اور نہ ہی وہ کوئی حرکت کرنے کے قابل ہو تو اس کی حرکات و سکنات کو کیسے محسوس کریں گے؟ اس کے لیے کیا کرنا ہو گا اور کیسے کرنا ہوگا؟
اس کے علاوہ ویل چیئرکا استعمال کسی معذور کو کیسے کروانا ہے؟ معذور کے درد یا کسی ایسی تکلیف کو جو وہ بیان نہیں کر سکتا ہے کیسے اس کو ڈیل کیا جائے گا؟ یہ چند باتیں تھیں اور بھی بہت سی چیزیں ہیں، ان سے متعلق جو کرنا ہوتی ہیں۔
ان تمام باتوں کو بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ابھی تک ملک میں کوئی ایسا انسٹی ٹیوٹ قائم نہیں جہاں معذوروں کو ہینڈل کرنے کا باقاعدہ کوئی تربیتی ادارہ بنایا گیا ہو۔ چند فلاحی ادارے یہ کام کر رہے ہیں لیکن وہ صرف اپنے ادارے تک ہی محدود ہیں۔
اس کے علاوہ چاق و چوبند معذوروں کو فنی تعلیم دینے کے لیے ایک مقام کا مہیا کرنا میری ترجیحات میں شامل رہا ہے جہاں ان کے لیے آسانی سے پہنچنا ممکن اور آمدو رفت میں کوئی رکاوٹ در پیش نہ ہو تو اس کمپلیکس میں ایسا انفرا اسٹرکچر بنا رہے ہیں جہاں تعلیم صحت، تفریح اور روزگار حاصل کرنے کے طریقے و معلومات کی تعلیم دی جاسکے تاکہ معذور بوجھ بن کر رہنے کے بجائے خود اپنی کفالت کر سکیں۔
کیونکہ ہر معذور اپنے اندر کوئی نہ کوئی صلاحیت رکھتا ہے اور یہی قدرت کی دی ہوئی نعمت ہے جو ان کو دوسروں سے نمایاں کرتی ہے۔ میری ان تمام کوششوں کا مقصد معذور افراد کے لیے اچھی سہولیات کا مہیا کرنا اور سماج کو آگہی دینا مقصود ہے، ایسے لوگوں سے آپ صرف ہمدردی نہیں بلکہ ان کے لیے عملی سطح پر میدان میں آئیں اور ان سے اپنائیت کا اظہار کریں کیونکہ معذوری کسی کی خواہش نہیں ہوتی بلکہ یہ تو واقعات سے جڑی ہوتی ہے یا پیدائش سے منسلک ہوتی ہے۔
میرے تین دورانیے بحیثیت ممبر قومی اسمبلی اسی جدو جہد میں رہے کہ کسی طرح سے معذوروں کو پارلیمانی اداروں میں خصوصی سیٹوں پر نمائندگی ملے اور یہ اپنے حقوق کے لیے خود اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں اور اب بات قانون ساز ادارے کی جانب گئی ہے تو میں دو حکومتوں کے ادوار کا آنکھوں دیکھا حال اور اپنی آپ بیتی تحریر کر رہی ہوں۔
25-09-2013 کو میں نے ایک بل جس کا عنوان تھا ’’قانون سازی برائے معذور افراد‘‘ وہ قومی اسمبلی میں جمع کروایا تھا، بل فلور آف دی ہاؤس میں منظوری کے لیے پیش ہوا، اراکین اسمبلی نے اتفاق کیا لیکن چند ایسے بھی تھے جنھوں نے اتفاق نہیں کیا لیکن پھر بھی بل قائمہ کمیٹی میں غور وفکر کے لیے بھیج دیا تمام میڈیا ہاؤسز نے خبریں بھی نشر کیں بل کی۔
محرک یعنی میرے اقدام کی ستائش بھی کی گئی اور پھر بد قسمتی سے اس بل کی باری ہی نہیں آئی اور حکومت اپنی مدت پوری کرتے ہوئے رخصت ہوگئی اور یہ بل بھی اسمبلی کی فائلوں میں سمیٹ کر رکھ دیا گیا لیکن اللہ نے مجھے پھر سے موقع دیا تو میں نے فوری طور پر نئے گراؤنڈ کے ساتھ دوبارہ سے مورخہ17-10-2018 کو قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ میں جمع کروا دیا اور پھر اپنی لا بنگ شروع کی، تاکہ اس بل کے لیے زیادہ سے زیادہ اراکین کی حمایت حاصل کروں۔
آخرکافی جدوجہد کے بعد یہ بل اسمبلی سے منظور ہوتا ہوا قائمہ کمیٹی تک پہنچا اور اس پر مفصل غوروفکر کے بعد کمیٹی نے منظوری دیتے ہوئے، اپنی سفارشات کے ساتھ بل اسمبلی کو بھیج دیا اور پھر بل اسمبلی فلورکے بزنس ایجنڈے کا حصہ بنا، میں بھی خوش تھی۔
اور معذوروں کی بھی بہت بڑی تعداد جو ذہنی طور پر ہم سے بھی آگے یعنی وہ رحم کی بھیک نہیں بلکہ بحیثیت پاکستانی اپنا حق مانگتے ہیں جو آپ کو بھی ملا ہے اور میں بھی مطمئن تھی کہ اب اس کے بارے میں بھی قانون وجود میں آنے والا ہے۔
قومی اسمبلی میں اس دن بہت شور شرابہ تھا لیکن جب معذوروں کے لیے بل پیش کیا گیا تو مجھ سے بل کے مندرجات پڑھنے کے لیے کہا گیا جو میں نے اسمبلی میں پڑھے۔ ڈپٹی اسپیکر نے ممبران سے رائے مانگی تو تمام اراکین نے کہا ہاں (yes) اب ڈپٹی اسپیکر کے کانوں میں جو آواز پہنچی تو ان کو اس کی منظوری دے دینی تھی لیکن بدقسمتی سے ان کے منہ سے نکلا نہیں (no) اور میرے احتجاج کے باوجود میری نہیں سنی گئی اور پھر نہ تو حکومت رہی اور نہ ہی ڈپٹی اسپیکر۔ میں سمجھتی ہوں کہ معذوروں کے ساتھ ظلم کیا گیا، ان کی حق تلفی ہوئی ہے۔
میں یہاں ایک بات کا ذکر ضروری سمجھتی ہوں کہ بدقسمتی دیکھیے کہ صرف صوبہ سندھ میں معذور افراد کے لیے سرکاری محکموں میں 3 ہزار ملازمتیں خالی ہیں جب کہ قانون کے مطابق 5 فیصد کوٹہ ان کے لیے مختص ہوتا ہے اور تعلیم یافتہ خصوصی افراد اپنی ڈگریاں ہاتھوں میں لیے دھکے کھانے پر مجبور ہیں جب کہ صوبہ سندھ میں معذوروں سے ہمدردی رکھنے والا ایک نوجوان وکیل اپنی پٹیشن کی فائل اٹھائے شنوائی کے لیے عدالت میں حاضر ضرور ہوتا ہے لیکن اس کو اب تک صرف تاریخ پر تاریخ ہی دی جا رہی ہے۔
میرا استدلال یہ ہے کہ ان کو خیرات نہیں بلکہ انھیں ان کا حق دیا جائے لہٰذا اب حکومت کو چاہیے کہ وہ قانون سازی کر کے صوبائی و قومی اسمبلی اور سینیٹ آف پاکستان میں ان کے لیے مخصوص نشستیں مختص کرے کیونکہ جمہوریت کی اصل روح یہ ہے کہ ملک کے ہر طبقے کو انصاف کی فراہمی اور ان کے حقوق کی ضمانت ملے تب ہی قومی یکجہتی کو فروغ حاصل ہوگا۔ میری تجویز ہے کہ جہاں معاشرے میں ہر فرد کی اخلاقی ذمے داری ہے کہ ان معذور افراد کے لیے اپنی آواز بلند کرے۔




