بھارت میں حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک پراسرار وبا نے کم از کم 12 افراد کی جان لے لی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ہریانہ کے ضلع پلوال کے تقریباً پانچ ہزار آبادی والے گاؤں چایانسا میں درجنوں افراد اس تاحال نامعلوم بیماری کا شکار ہو چکے ہیں۔
مقامی حکام نے تشویش کے پیش نظر فوری تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ اس وبا کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے، جبکہ طبی ٹیمیں بھی گاؤں میں تعینات کر دی گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق 600 سے زائد رہائشیوں کی اسکریننگ کی جا چکی ہے اور تقریباً 300 خون کے نمونے حاصل کیے گئے ہیں، جن میں سے قریب 20 کیسز ہیپاٹائٹس بی اور سی کے تصدیق شدہ ہیں۔
بیماری کی علامات میں بخار، کھانسی، جسم میں درد اور قے شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ بعض اموات جگر کے انفیکشن اور اعضا کے ناکارہ ہو جانے (ملٹی پل آرگن فیلئر) کے باعث ہوئیں۔ چار افراد میں ہیپاٹائٹس بی کی باقاعدہ تصدیق بھی ہوئی ہے۔
ہیپاٹائٹس بی اور سی وائرل انفیکشنز ہیں جو بنیادی طور پر جگر کو متاثر کرتے ہیں اور اس عضو کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ دونوں خون کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں۔ ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ کے لیے ویکسین دستیاب ہے لیکن ہیپاٹائٹس سی کی کوئی ویکسین موجود نہیں۔
رہائشیوں کا خیال ہے کہ آلودہ پینے کا پانی اس بحران کی ممکنہ وجہ ہو سکتا ہے۔ پانی کے ٹیسٹ میں لیے گئے 107 نمونوں میں سے 23 معیار پر پورا نہیں اتر سکے۔
گاؤں کے رہنماؤں کے مطابق صرف 20 فیصد گھروں کو گاؤں کے ٹینک سے پائپ لائن کے ذریعے پانی ملتا ہے، جبکہ باقی افراد ٹینکروں سے پانی خرید کر زیرِ زمین دھاتی ٹینکوں میں ذخیرہ کرنے پر مجبور ہیں۔
Source link









