آج کا انسان تاریخ کی شاید سب سے زیادہ تفریحی دنیا میں رہ رہا ہے، مگر عجیب بات یہ ہے کہ اسی دنیا میں وہ پہلے سے زیادہ بے چین، تنہا اور بے سکون بھی ہے۔ اسکرینیں روشن ہیں، کھیل جاری ہیں، مگر انسانی روح کے اندر ایک خاموش خلا پھیلتا جا رہا ہے۔
جدید لبرل سرمایہ داری نے سکون کی جگہ ’’تسکین‘‘ کو بٹھا دیا ہے اور یہی وہ سراب ہے جس کی ایک جھلک ہمیں معروف فکری جریدے نیو لیفٹ ریویو (این ایل آر) میں شائع ہونے والے اون ہتھرلے کا مضمون ’’کنسولنگ‘‘ میں بھی نظر آتی ہے،مگر افسوس کہ یہ مضمون خود اسی سرمایہ دارانہ منطق کا شکار نظر آتا ہے جس پر اسے نقد کرنا چاہیے تھا۔
مصنف نے جس انداز میں نینٹینڈو جیسی بڑی ٹیک کارپوریشن کو تقریباً ایک ’’محبت نامے‘‘ کی صورت میں پیش کیا ہے، وہ درحقیقت اس فکری مغالطے کی عکاسی ہے جسے ہم ’’کارپوریٹ رومانس‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ اون ہتھرلے کے اس پورے تجزیے میں ایک بنیادی سوال پس منظر میں چلا گیا ہے کہ کیا ویڈیو گیمز اب بھی کھیل ہیں یا استحصال کی ایک نئی ڈیجیٹل سرمایہ دارانہ صنعت؟
مارکسی نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو گیمنگ اب محض ایک ثقافتی مشغلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ’’ڈیجیٹل کیپٹل ازم‘‘ کا ایک خوفناک محاذ بن چکا ہے۔ کھیل، جو کبھی انسانی فطرت کا محض ایک آزادانہ اظہار تھا، اب اسے ایک ’’لت کی معیشت‘‘میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
عالمی اعداد و شمار کے مطابق، عالمی گیمنگ انڈسٹری کا حجم 200 ارب ڈالر سے متجاوز ہے، جو کہ ہالی ووڈ اور موسیقی کی صنعت کے مجموعی حجم سے بھی زیادہ ہے۔ دنیا بھر میں اندازاً 3 ارب سے زیادہ افراد کسی نہ کسی شکل میں ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں۔ اس میں موبائل گیمز سے لے کر کنسول اور کمپیوٹر گیمز تک سب شامل ہیں۔
اگر صرف نینٹینڈو کی کامیاب فرنچائزز کو دیکھ لیا جائے تو معاملہ اور واضح ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر: سپر ماریو سیریز کی مجموعی فروخت تقریباً 850 ملین یونٹس تک پہنچ چکی ہے۔پوکے مان گیمز کے 480 ملین سے زیادہ یونٹس فروخت ہو چکے ہیں۔
دا لیجنڈ اوف زیلڈاسیریز کی فروخت 130 ملین سے زیادہ ہے۔جب کہ ا ینیمل کراسنگ کے تقریباً 95 ملین یونٹس فروخت ہو چکے ہیں۔صرف پوکے مان فرنچائز کی مجموعی آمدنی 42 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ یعنی ایک واحد گیم سیریز کئی چھوٹے ممالک کی معیشت کے برابر آمدنی پیدا کر رہی ہے۔
یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صارف اب ایک انسان نہیں رہا، بلکہ اسے محض ڈیٹا اور منافع کشید کرنے والی مشین بنا دیا گیا ہے۔ کسی استحصالی نظام کو ’’متبادل اخلاقی کارپوریشن‘‘ کے طور پر پیش کرنا دراصل اسی نظام کی نرم تشہیر ہے جو ہمیں ہماری اپنی محرومیوں میں مگن رکھنا چاہتا ہے اور ہم نہیں سمجھتے کہ مارکسی نقطہ نظر سے بھی یہ ایک درست تشریح و تعبیر ہو سکتی ہے۔
دکھ تو اس بات کا ہے کہ جب نیو لیفٹ ریویو جیسے ثقہ مجلے بھی استحصال کو استحصال لکھنے میں ناکام رہیں، تو کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ ایک اور چراغ بھی بجھنے کو ہے؟
ویڈیو گیمز کے نفسیاتی اثرات پر گزشتہ دو دہائیوں میں درجنوں تحقیقی مطالعات ہو چکے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ اس ڈیجیٹل تسکین کی قیمت ہم اپنی نفسیاتی صحت کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔
مختلف تحقیقی مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پرتشدد ویڈیو گیمز نوجوانوں میں نہ صرف جارحانہ رویوں کو جنم دیتی ہیں بلکہ ان کے اندر سے سماجی ہمدردی کے احساس کو بھی کھرچ دیتی ہیں۔ جب ایک کھلاڑی گھنٹوں ایسے منظرناموں میں شامل رہتا ہے جہاں ’’قتل و غارت‘‘ اور ’’دشمن کی تباہی‘‘ کو ’’انعام‘‘کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، تو اس کے دماغ کے مخصوص خانے ایسے ایگریسیو اسکرپٹ بناتے ہیں جو حقیقی زندگی میں بھی اسے بے حس بنا دیتے ہیں۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ’’گیمنگ ڈس آرڈر‘‘ کو باقاعدہ ایک ذہنی بیماری تسلیم کیا ہے، جو بتاتا ہے کہ یہ لت کس طرح ڈوپامائن کے چکر میں انسان کو قید کر لیتی ہے۔بات صرف تشدد تک بھی محدود نہیں، بلکہ جدید گیمنگ کلچر نے اخلاقی اور ثقافتی انحطاط کو بھی فروغ دیا ہے۔
گیمز میں عورت کے کردار کو جس طرح ’’آبجیکٹیفائی‘‘کیا جاتا ہے اور جس طرح جنسی نمائش کو گیمنگ گرافکس کا لازمی حصہ بنا دیا گیا ہے، اس نے نوجوانوں کے ذہنوں میں رشتوں اور صنف کے حوالے سے غیر حقیقی اور مسخ شدہ تصورات پیدا کر دیے ہیں۔
آن لائن گیمنگ کمیونٹیز میں ہراسانی اور نفرت انگیز گفتگو کا عام ہونا اسی کلچر کی پیداوار ہے۔ یہاں ’’گمنامی‘‘کے پردے میں اخلاقی حدود کو پامال کرنا بہادری سمجھا جاتا ہے۔
سرمایہ داری کا اصل چہرہ ’’مائیکرو ٹرانزیکشنز‘‘ اور ’’لوٹ باکسز‘‘کے جال میں بھی نظر آتا ہے۔ گیمنگ انڈسٹری اب صرف گیم بیچنے پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ گیم کے اندر مسلسل چھوٹے چھوٹے اخراجات کے ذریعے صارف کو مالی طور پر نچوڑتی رہتی ہے۔
تحقیقات بتاتی ہیں کہ یہ ماڈل بچوں اور نوجوانوں میں ’’جوا نما رویے‘‘ کو فروغ دیتا ہے۔ کتنے ہی والدین اس کا شکار ہو چکے ہیں۔ مزید یہ کہ ’’پے ٹو ون‘‘ کی منطق نے کھیل کے میدان کو بھی معاشی عدم مساوات کا اکھاڑا بنا دیا ہے جہاں مہارت سے زیادہ جیب کی طاقت اہمیت رکھتی ہے یہ ڈیجیٹل سرمایہ داری کی وہ نئی شکل ہے جہاں تفریح کا لبادہ اوڑھ کر معاشی استحصال کا بازار گرم کیا گیا ہے۔
سیاسی اور سماجی طور پر دیکھا جائے تو یہ گیمنگ کلچر ایک ’’اجتماعی بے حسی‘‘کا سبب بن رہا ہے۔ جدید سرمایہ داری نے تفریح کو ایک ایسے اوزار کے طور پر استعمال کیا ہے جو فرد کو حقیقی زندگی کے سیاسی اور معاشی شعور سے دور کر دیتا ہے۔ جب ایک انسان حقیقت کی تلخ جنگ لڑنے کے بجائے ورچوئل دنیا کی فرضی جنگوں میں فتح کے جھنڈے گاڑنے میں تسکین محسوس کرتا ہے، تو وہ ان زنجیروں کو بھول جاتا ہے جو اس کے پاؤں میں حقیقی دنیا کے نظام نے ڈال رکھی ہیں۔
پاکستان کے تناظر میں یہ صورتحال مزید ہولناک ہو جاتی ہے۔ کراچی سے لے کر خیبر تک، جہاں لوڈ شیڈنگ اور معاشی تنگ دستی نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے، وہاں نوجوانوں کا اپنی جمع پونجی اس ’’ڈیجیٹل افیون‘‘ پر لٹادینا ایک لمحہ فکریہ ہے۔
ہم نے تعلیم کے میدان میں تو دیوالیہ پن کا سامنا کیا ہی تھا، اب ہم ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو مادی دنیا کے مسائل سے فرار کے لیے ورچوئل دنیا کی مصنوعی تسکین پر منحصر ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 110 ملین سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں سے ایک بڑی تعداد آن لائن گیمنگ میں مصروف ہے، مگر اس مصروفیت کا ثمر نہ تو ہماری معیشت کو مل رہا ہے اور نہ ہی ہمارے قومی شعور کو۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ’’کنسولنگ‘‘جیسے مضامین اگرچہ ثقافتی بحث کے لیے اہم ہیں، مگر وہ گیمنگ انڈسٹری کی اصل سیاسی معیشت کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔گیمنگ کا اصل سوال یہ نہیں ہے کہ کون سی کمپنی نفع بخش ہے یا کس کا گرافکس اچھا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ ٹیکنالوجی انسان کی آزادی میں اضافہ کر رہی ہے یا اسے ڈیجیٹل سرمایہ داری کے ایک نئے قید خانے میں دھکیل رہی ہے؟
ہمیں اس تسکین کے سراب سے باہر نکلنا ہوگا اور یہ سمجھنا ہوگا کہ حقیقی سکون اسکرین کے پیچھے نہیں بلکہ اس استحصالی نظام کی تبدیلی میں ہے جو انسان کو محض ایک معاشی آلہ سمجھتا ہے۔
کیوں کہ جب کھیل سرمایہ بن جائے اور تسکین ایک تجارتی شے میں بدل جائے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ انسان اپنی آزادی کا سودا کر چکا ہے۔ وہ اب ایک ایسی ورچوئل دنیا کا اسیر ہے جس کی چابی اس کے اپنے ہاتھ میں نہیں بلکہ کسی کارپوریٹ والٹ میں محفوظ ہے۔
شاید اسی لیے ایک مفکر نے کہا تھا۔’’سرمایہ داری کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ اس نے ہمیں چیزیں بیچیں، بلکہ یہ ہے کہ اس نے ہمارا وقت، ہماری توجہ اور ہماری حقیقت بھی خرید لی اور شاید یہ ہی آج کے انسان کا سب سے بڑا المیہ ہے:وہ اسکرین کے اندر جیت رہا ہے،مگر زندگی کا اصل کھیل آہستہ آہستہ ہارتا جا رہا ہے۔



