اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مقامی طور پر تیار ہونے والی مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی فروخت کے لیے مسابقتی اور شفاف نیلامی کا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے اس شعبے میں دہائیوں پرانی اجارہ داری ختم ہو جائے گی۔ یہ فیصلہ بدھ 4 نومبر 2026 کو اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت وزیراعظم شہباز شریف نے کی۔
اجلاس میں موسم سرما کے دوران ملک میں ایل این جی، ایل پی جی اور پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ عالمی قیمتوں میں اضافے اور سمندری راستوں میں خلل کے باعث یہ کام مشکل ہو گیا ہے، اس لیے توانائی کی ضروریات کا جائزہ لینے کے لیے ہر دو سے تین روز بعد اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔
نئے انتظام کے تحت مقامی طور پر تیار ہونے والی ایل پی جی کو حکومتی نگرانی میں شفاف اور مسابقتی نیلامی کے ذریعے پیش کیا جائے گا، جبکہ درآمد کرنے والی کمپنیوں کو مقررہ طریقہ کار پر عمل کرنا ہوگا۔ اس اقدام سے مارکیٹ میں مسابقت بڑھے گی اور شفافیت آئے گی۔
اجلاس میں صارفین کو پیٹرول کی ممکنہ قیمتوں میں اضافے سے بچانے کے لیے بھی اہم پیش رفت ہوئی۔ پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک، اوگرا اور متعلقہ کمیٹی نے ریفائنریز سے غیر متوقع منافع میں حصہ داری پر اتفاق کیا، تاکہ 15 روپے فی لیٹر اضافے کا بوجھ عوام پر نہ ڈالا جائے۔
وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے جامع ترقیاتی اور سیکیورٹی پیکیج کو بھی حتمی شکل دی۔ اسی اجلاس میں پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کی توثیق بھی کی گئی، جو 11 جون 2023 کو دستخط ہوا تھا۔ کویت پہلے ہی اس کی توثیق کر چکا تھا اور یہ معاہدہ پانچ سال کے لیے ہے، جس میں خودکار تجدید کی شق شامل ہے۔