تازہ ترین

یکم اگست سے ایل پی جی مزید مہنگی، اوگرا نے نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا

Daily Aitadal Staff جمعہ ۳۱ جولائی ۲۰۲۶ء
یکم اگست سے ایل پی جی مزید مہنگی، اوگرا نے نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا

ملک بھر میں مہنگائی کے دباؤ کے درمیان گھریلو صارفین کو ایک اور بڑا جھٹکا لگ گیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اگست 2026 کے لیے ایل پی جی (LPG) کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت گیس کی فی کلو قیمت میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم اگست سے ہوگا۔

اوگرا کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی سرکاری قیمت میں 13 روپے فی کلوگرام اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 254 روپے فی کلوگرام مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل جولائی میں یہی قیمت 241 روپے فی کلوگرام تھی۔

قیمتوں میں اضافے کے باعث گھریلو صارفین کے لیے استعمال ہونے والا 11.8 کلوگرام کا سلنڈر بھی مہنگا ہو گیا ہے۔ نئے نرخوں کے مطابق گھریلو سلنڈر کی قیمت 3 ہزار ایک روپے ہو گئی ہے، جو پہلے 2 ہزار 849 روپے تھی۔ اسی طرح کمرشل صارفین کے لیے استعمال ہونے والے سلنڈر کی قیمت بھی بڑھ کر 11 ہزار 546 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایل پی جی کی قیمت میں یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پہلے ہی بجلی، ایندھن اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء کی قیمتیں عوام کے بجٹ پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہیں۔ دیہی علاقوں اور ان مقامات پر جہاں قدرتی گیس کی فراہمی محدود ہے، وہاں لاکھوں خاندان کھانا پکانے اور دیگر ضروریات کے لیے ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے نئی قیمتیں ان کے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ کریں گی۔

دوسری جانب ایل پی جی سیکٹر سے وابستہ نمائندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں سرکاری نرخوں کے مطابق ایل پی جی کی دستیابی یقینی بنائی جائے تاکہ غیر قانونی منافع خوری اور بلیک مارکیٹنگ کی روک تھام ہو سکے۔

صنعتی حلقوں کا یہ بھی مؤقف ہے کہ اگر سرکاری اور نجی مارکیٹنگ کمپنیوں کو شفاف طریقے سے ایل پی جی فراہم کی جائے تو مصنوعی قلت پر قابو پایا جا سکتا ہے اور صارفین کو مقررہ قیمت پر گیس دستیاب ہوگی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی توانائی مارکیٹ میں قیمتوں کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے مہینوں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں مزید ردوبدل بھی دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ ایسے میں صارفین کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ صرف مجاز ڈیلرز سے سرکاری نرخوں کے مطابق ایل پی جی خریدیں اور زائد قیمت وصول کیے جانے کی صورت میں متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔

تبصرہ تحریر کریں ✍️

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ تمام خانوں کو پُر کرنا ضروری ہے۔