تہران: پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر 20 اکتوبر کو ایران کے دورے پر تہران پہنچے، جہاں پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں اور مذاکرات کی بحالی کی کوششیں اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک پاکستانی عہدیدار اور ایرانی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے عاصم منیر کے دورۂ تہران کی اطلاع دی تھی، جبکہ اے آر وائی نیوز نے ان کی ایران آمد کی خبر دی۔ اس دورے کو پاکستان کی ان سفارتی کوششوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جن کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے امکانات تلاش کرنا ہے۔
پاکستان نے رواں سال امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس سے قبل موسم گرما میں ہونے والے مذاکرات میں تنازع کو مزید بڑھنے سے روکنے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ کے جلد خاتمے کے لیے اقدامات پر توجہ دی گئی تھی۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے۔ اس گزرگاہ میں رکاوٹیں پیدا ہونے سے تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی بین الاقوامی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی منڈیوں اور مختلف ممالک کی معیشتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے اس راستے کو کھولنے اور سمندری نقل و حرکت بحال رکھنے کا معاملہ سفارتی کوششوں کا اہم حصہ ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو سات دن کے اندر دوبارہ کھولنے سے متعلق تہران کی تجویز اب بھی موجود ہے۔ تاہم، اس تجویز پر پیش رفت کا انحصار متعلقہ فریقین کے درمیان اتفاق اور جاری تنازع کے حوالے سے شرائط پر ہوگا۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے باعث پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اہمیت حاصل ہے، تاہم ابھی کسی نئے معاہدے یا حتمی پیش رفت کی تصدیق نہیں ہوئی۔ عاصم منیر کے دورے کے نتائج کا اندازہ آئندہ ہونے والے رابطوں اور دونوں ممالک کے ردعمل سے لگایا جا سکے گا۔
پاکستان کے لیے خطے میں کشیدگی کم ہونا نہ صرف سفارتی بلکہ معاشی اعتبار سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم، مذاکرات کی بحالی اور کسی ممکنہ سمجھوتے کے لیے واشنگٹن اور تہران دونوں کی آمادگی بنیادی اہمیت کی حامل ہوگی۔