اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 16 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 69 پیسے فی لیٹر کمی کر دی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 20 اکتوبر 2026 سے ہو گیا ہے، جس سے موٹر سائیکل اور گاڑی استعمال کرنے والوں سمیت ٹرانسپورٹ کے شعبے کو کچھ ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
قیمتوں میں کمی کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 381 روپے 14 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس سے پہلے صارفین 386 روپے 30 پیسے فی لیٹر کے حساب سے پیٹرول خرید رہے تھے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 396 روپے 96 پیسے سے کم ہو کر 389 روپے 27 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نئے نظام کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی ایکس ڈپو قیمتوں پر نظرثانی کی ہے۔ اس طریقہ کار کے مطابق بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے روزانہ نئی قیمتیں مقرر کی جا سکتی ہیں۔ اس کا مقصد عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق مقامی قیمتوں میں ردوبدل کرنا ہے۔
ڈیزل کی قیمت میں نسبتاً زیادہ کمی کو ٹرانسپورٹ، مال برداری اور زرعی شعبے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان میں بھاری گاڑیاں، مال بردار ٹرک اور زرعی مشینری بڑی حد تک ڈیزل پر چلتی ہیں۔ قیمت کم ہونے سے ان شعبوں کے ایندھن کے اخراجات میں کچھ کمی آ سکتی ہے، تاہم اس کا انحصار کاروباری اداروں اور ٹرانسپورٹرز کے ردعمل پر بھی ہوگا۔
پیٹرول کی قیمت میں کمی سے موٹر سائیکل سواروں اور نجی گاڑیاں استعمال کرنے والوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ تاہم ہر صارف کی بچت اس بات پر منحصر ہوگی کہ وہ کتنا ایندھن خریدتا ہے اور اس کی گاڑی کتنی کھپت کرتی ہے۔
ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے باوجود ضروری نہیں کہ عوام کو فوری طور پر پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں یا اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی کمی نظر آئے۔ اس کے لیے سپلائی چین میں اخراجات کی منتقلی اور مارکیٹ کے ردعمل کو دیکھنا ہوگا۔ نئی قیمتوں کے تحت فی الحال دونوں اہم پیٹرولیم مصنوعات سستی ہوئی ہیں، جبکہ مستقبل کی قیمتوں کا انحصار عالمی منڈی کی صورتحال پر رہے گا۔