تازہ ترین

شیری رحمٰن کا نئے انتظامی یونٹس پر محتاط مؤقف، کہا وقت سیاسی استحکام پر توجہ دینے کا ہے

Daily Aitadal Staff جمعہ ۳۱ جولائی ۲۰۲۶ء
شیری رحمٰن کا نئے انتظامی یونٹس پر محتاط مؤقف، کہا وقت سیاسی استحکام پر توجہ دینے کا ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیئر رہنما اور سینیٹر شیری رحمٰن نے نئے انتظامی یونٹس کے حوالے سے جاری بحث پر محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کو اس وقت مزید آگے بڑھانے کے بجائے ملک کو درپیش اہم مسائل پر توجہ دینا زیادہ ضروری ہے۔

ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس سے متعلق اب تک ان کے سامنے کوئی باقاعدہ یا قابلِ غور مسودہ نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو ایسے معاملات میں سنجیدگی اور اتفاقِ رائے کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے تاکہ عوامی مسائل کا پائیدار حل نکالا جا سکے۔

شیری رحمٰن نے کہا کہ اس وقت ملک کو بہتر طرزِ حکمرانی، معاشی استحکام اور مؤثر انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق صرف نئے انتظامی ڈھانچے بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اصل توجہ گورننس کے نظام کو بہتر بنانے پر ہونی چاہیے۔

انہوں نے معاشی صورتحال پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ قومی قرضوں اور سرکاری اخراجات میں مسلسل اضافہ تشویش کا باعث ہے۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں حکومت کو اپنی ترجیحات واضح رکھتے ہوئے عوامی فلاح اور معاشی بہتری پر توجہ دینی چاہیے۔

سینیٹر شیری رحمٰن نے خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ اس وقت دہشت گردی اور سیاسی بے یقینی جیسے سنگین چیلنجز سے دوچار ہے۔ ان کے نزدیک ایسے حالات میں نئے انتظامی یونٹس کی بحث شروع کرنا مناسب نہیں، بلکہ امن و امان اور استحکام کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔

بین الاقوامی امور پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی وقفے وقفے سے دوبارہ شدت اختیار کر رہی ہے، جس سے امن کی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سمیت کئی ممالک چاہتے ہیں کہ مذاکرات اور ثالثی کے ذریعے تنازعات کا حل تلاش کیا جائے۔

شیری رحمٰن کے مطابق جب بھی ثالثی کا عمل آگے بڑھتا ہے تو امن کے خواہاں حلقے زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ سفارتی کوششیں جاری رہیں گی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔

ایران سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بعض عالمی قوتوں کا اندازہ درست ثابت نہیں ہوا اور خطے کی صورتحال توقعات سے مختلف رخ اختیار کر گئی، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری میں ہی پوشیدہ ہے۔

تبصرہ تحریر کریں ✍️

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ تمام خانوں کو پُر کرنا ضروری ہے۔