پاکستان میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 1.91 روپے اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پٹرول کی قیمت برقرار رکھی گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 24 سے 26 اکتوبر 2026 تک کے لیے کیا گیا ہے۔ تازہ نظرثانی کے بعد ڈیزل کی قیمت 391.75 روپے سے بڑھ کر 393.66 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ پٹرول بدستور 377.71 روپے فی لیٹر فروخت ہوگا۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق قیمتوں میں تبدیلی عالمی منڈی کی صورتحال سے متعلق عوامل کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ ان عوامل میں پلاٹس کی عالمی قیمتیں، پریمیم اور دیگر ضمنی اخراجات شامل ہیں۔ حکام کے مطابق پٹرولیم لیوی 80 روپے فی لیٹر اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی 5 روپے فی لیٹر کی سطح پر برقرار ہیں۔
اس سے ایک روز قبل ہونے والی قیمتوں کی نظرثانی میں ڈیزل 1.64 روپے فی لیٹر مہنگا کیا گیا تھا، جبکہ پٹرول کی قیمت میں 1.60 روپے فی لیٹر کمی کی گئی تھی۔ مسلسل تبدیلیوں نے ایندھن کی قیمتوں اور ان کے عوامی اخراجات پر اثرات کے حوالے سے بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
ڈیزل کی قیمت میں اضافے کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ مال بردار گاڑیوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور زرعی مشینری میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ اس کی قیمت بڑھنے سے کاروباری اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل پر دباؤ پڑ سکتا ہے، اگرچہ حتمی اثرات کا انحصار دیگر اخراجات اور مارکیٹ کی صورتحال پر بھی ہوتا ہے۔
دوسری جانب جماعت اسلامی نے پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور پٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر احتجاجی مہم کا تیسرا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔ جماعت کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کی ہدایات پر خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں احتجاجی سرگرمیاں منعقد کی جا رہی ہیں۔
مہم کے تحت پشاور، مردان، نوشہرہ، صوابی، چارسدہ اور خیبر میں دھرنوں، ریلیوں اور عوامی اجتماعات کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ پٹرولیم لیوی واپس لی جائے اور مہنگائی سے متاثرہ عام شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
جماعت اسلامی نے اشارہ دیا ہے کہ مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ تازہ پیش رفت نے ایندھن کی قیمتوں، ٹیکسوں اور عوامی قوت خرید سے متعلق معاملات کو ایک بار پھر قومی بحث کا حصہ بنا دیا ہے۔