لاہور ہائی کورٹ نے کرپٹو کرنسی سے متعلق ایک اہم مقدمے میں فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صرف پیئر ٹو پیئر (P2P) کرپٹو ٹریڈنگ یا بینک اکاؤنٹ میں اس سے متعلق رقم وصول کرنا بذاتِ خود نہ فراڈ ہے اور نہ ہی الیکٹرانک جرم۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے کرپٹو ٹریڈنگ سے متعلق مقدمے میں نامزد تین افراد کی قبل از گرفتاری ضمانت برقرار رکھنے کا حکم دیا۔
مقدمے کے مطابق شکایت کنندہ کا مؤقف تھا کہ اس نے کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے لیے تقریباً 68 کروڑ 60 لاکھ روپے منتقل کیے اور اس کے بدلے بڑی مقدار میں USDT خریدی۔ بعد ازاں اس کا دعویٰ تھا کہ اس کا کرپٹو اکاؤنٹ منجمد ہو گیا، جس پر اس نے متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ صرف کسی کے بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہونا یا ورچوئل اثاثوں کی خرید و فروخت کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ فراڈ یا پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کے تحت کوئی جرم سرزد ہوا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کسی پر دھوکہ دہی یا جعل سازی کا الزام عائد کیا جاتا ہے تو تحقیقاتی ادارے پر لازم ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ ملزم نے سرمایہ کار کو گمراہ کیا، جعلی الیکٹرانک ریکارڈ تیار کیا یا اس کے کرپٹو اکاؤنٹ کو منجمد کرانے میں براہِ راست کردار ادا کیا۔
لاہور ہائی کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو سرکاری قانونی کرنسی کا درجہ حاصل نہیں، لیکن صرف اسی بنیاد پر اسے غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
عدالت نے اس حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 2018 کے سرکلر کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس کی پابندیاں بنیادی طور پر بینکوں اور دیگر ریگولیٹڈ مالیاتی اداروں پر لاگو ہوتی ہیں، جبکہ نجی افراد کے درمیان کرپٹو ٹریڈنگ کو خود بخود فوجداری جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
عدالت نے مزید کہا کہ USDT یا دیگر ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت اس وقت تک زرمبادلہ قوانین کی خلاف ورزی نہیں سمجھی جا سکتی جب تک استغاثہ غیر قانونی فارن ایکسچینج لین دین کے واضح شواہد پیش نہ کرے۔
عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ مقدمے میں موجود ریکارڈ سے ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ ملزمان نے شکایت کنندہ کو دھوکا دیا، الیکٹرانک ریکارڈ میں ردوبدل کیا یا اس پلیٹ فارم پر اختیار رکھتے تھے جہاں اکاؤنٹ منجمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
ان نکات کی بنیاد پر عدالت نے قرار دیا کہ ملزمان کی جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں، لہٰذا ان کی قبل از گرفتاری ضمانت برقرار رکھی جائے گی۔