پشاور: خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں الخیر اسکول کی چھت گرنے سے ۳۲ بچے اور ایک خاتون ٹیچر جاں بحق ہوگئے، جبکہ درجنوں طلبہ زخمی ہوگئے جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ افسوسناک واقعہ ۱۵ اکتوبر ۲۰۲۶ کو صبح تدریسی سرگرمیوں کے دوران پیش آیا، جب اسکول کی چھت اچانک منہدم ہوگئی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق حادثے کی ممکنہ وجوہات میں رات بھر ہونے والی شدید بارش اور عمارت کا کمزور، پرانا اور خستہ حال ڈھانچہ شامل ہیں۔ چھت گرنے کے بعد اسکول میں موجود طلبہ ملبے تلے دب گئے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔ واقعے کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں تاکہ ملبے میں پھنسے بچوں اور دیگر افراد کو نکالا جاسکے۔ امدادی اداروں نے سرچ اور ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا ہے اور حکام کے مطابق اب کوئی شخص ملبے تلے موجود نہیں ہے۔ زخمی طلبہ کی تعداد درجنوں میں بتائی گئی ہے، جبکہ متعدد کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث حادثے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کے حوالے سے صورتحال انتہائی سنگین رہی۔ واقعے کے بعد پولیس نے اسکول کے مالک کو مبینہ غفلت کے الزامات کے تحت گرفتار کرلیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد حادثے کی ذمہ داری کا تعین کرنا اور یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا عمارت کی دیکھ بھال اور طلبہ کی حفاظت کے تقاضوں کو پورا کیا گیا تھا یا نہیں۔ حکام نے دیگر نجی اسکولوں کی عمارتوں کا بھی جائزہ لینے کا حکم دیا ہے تاکہ عمارتوں کی مضبوطی، خستہ حالی اور طلبہ کے لیے ممکنہ خطرات کا پتا چلایا جاسکے۔ اس اقدام کے تحت نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حالت کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے حادثات سے بچاؤ کے لیے ضروری اقدامات کیے جاسکیں۔
پشاور میں اسکول کی چھت گرنے سے ۳۲ بچے اور خاتون ٹیچر جاں بحق، متعدد زخمی