پشاور: پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے جمعرات کو وفاقی حکومت سے خیبر پختونخوا میں نافذ کیے گئے ہنگامی اقدامات فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے گورنر راج کے نفاذ کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات سے صوبائی خودمختاری متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے ہنگامی اقدامات کے خلاف دائر درخواست پر پشاور ہائی کورٹ 20 اکتوبر کو سماعت کرے گی۔ عدالتی کارروائی کو اس معاملے میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ درخواست میں وفاقی حکومت کے اقدامات کو چیلنج کیا گیا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم کے ایک معاون نے کہا ہے کہ یہ اقدامات اس وقت واپس لیے جائیں گے جب پاکستان تحریک انصاف اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔ حکومتی مؤقف اور اپوزیشن کے مطالبات کے درمیان اختلاف کے باعث خیبر پختونخوا میں ہنگامی اقدامات کا معاملہ سیاسی اور آئینی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت صوبائی خودمختاری کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور ہنگامی اقدامات واپس لے۔ تاہم، اس معاملے پر حتمی پیش رفت کے لیے پشاور ہائی کورٹ کی 20 اکتوبر کو ہونے والی سماعت اہم ہوگی۔ ادھر پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا ہے کہ صوبہ مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومتی امور کو بہتر بنانے اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری لانے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز اپنائی جا رہی ہیں۔ مریم نواز کے بیان کے مطابق مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال حکومتی نظام کو بہتر بنانے اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی سہولتوں میں بہتری لانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ خیبر پختونخوا میں آئینی و سیاسی تنازع اور پنجاب میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق یہ پیش رفت صوبائی و وفاقی سطح پر حکومتی ترجیحات کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کرتی ہے۔
مخصوص اقدامات واپس لینے کا مطالبہ، خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج
Leave a Reply