راولپنڈی: پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایات پر تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی کمیٹی نے حنا جاوید قتل کیس کی دوبارہ تحقیقات شروع کردی ہیں۔ تحقیقاتی حکام نے گھریلو ملازم زیِشان کو مقدمے میں پہلے سے نامزد ہونے کے بعد اب بھی مرکزی مشتبہ ملزم قرار دیا ہے۔ تفتیش میں فرانزک شواہد، جن میں ڈی این اے اور جلد کے ذرات شامل ہیں، کو اہمیت دی جارہی ہے۔ خصوصی تحقیقاتی کمیٹی کا قیام وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر عمل میں لایا گیا، جس کا مقصد راولپنڈی میں پیش آنے والے قتل کے واقعے کی ازسرنو تحقیقات کرنا اور دستیاب شواہد کی روشنی میں معاملے کا جائزہ لینا ہے۔ کمیٹی نے اپنی کارروائی شروع کردی ہے اور کیس سے متعلق شواہد کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ تحقیقاتی حکام کے مطابق گھریلو ملازم زیِشان کا نام پہلے ہی مقدمے میں شامل ہے۔ اب تفتیش کے دوران سامنے آنے والے فرانزک شواہد کو بھی زیر غور لایا جارہا ہے۔ ان شواہد میں ڈی این اے اور جلد کے ذرات شامل ہیں، جنہیں کیس کی تحقیقات میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم ملزم کے خلاف الزامات کا حتمی تعین متعلقہ قانونی کارروائی اور شواہد کے جائزے سے ہوگا۔ دوسری جانب مقتولہ حنا جاوید کے اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ کیس کی تحقیقات شفاف اور غیر جانب دار انداز میں کی جائیں۔ خاندان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ معاملے کی مکمل چھان بین ہونی چاہیے تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ خصوصی تحقیقاتی کمیٹی اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد رپورٹ پنجاب حکومت کو پیش کرے گی۔ رپورٹ میں تحقیقات کے نتائج اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر سامنے آنے والی معلومات شامل ہوں گی۔ حنا جاوید قتل کیس کی دوبارہ تحقیقات سے متعلق پیش رفت پر توجہ مرکوز ہے، جبکہ اہل خانہ کی جانب سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔ کمیٹی کی رپورٹ آئندہ کارروائی کے لیے اہم ہوگی۔
راولپنڈی میں حنا جاوید قتل کیس کی دوبارہ تحقیقات شروع، ملازم زیِشان مرکزی ملزم نامزد
Leave a Reply