کراچی: شہر کے علاقے لانڈھی میں سرکاری گوداموں میں ذخیرہ کی گئی بڑی مقدار میں گندم خراب ہونے لگی ہے، جبکہ فلور ملز مالکان کی جانب سے گندم اٹھانے سے گریز کے باعث ذخیرہ شدہ اجناس کی حالت مسلسل بگڑ رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق گندم طویل عرصے سے گوداموں میں موجود ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کے معیار میں کمی آ رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گندم کو محفوظ رکھنے کے لیے قائم کیے گئے گوداموں میں موجود ذخیرہ اب ضائع ہونے کے خدشات سے دوچار ہے۔ فلور ملز کی جانب سے سرکاری گندم کی ترسیل وصول نہ کیے جانے کے باعث بڑی مقدار میں اناج گوداموں میں پھنسا ہوا ہے، جس کی کوالٹی ہر گزرتے ماہ کے ساتھ متاثر ہو رہی ہے۔ اس صورتحال نے سرکاری گندم کے ذخیرے کے انتظامات، محفوظ رکھنے کے طریقہ کار اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مبصرین کے مطابق گندم کی بروقت ترسیل اور ذخیرے کی مناسب نگرانی نہ ہونے سے قابلِ استعمال خوراک ضائع ہونے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ ذرائع اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے محکمہ خوراک کے حکام پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیں اور باقی ماندہ گندم کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ اس سلسلے میں فلور ملز اور متعلقہ سرکاری اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کی ضرورت بھی اجاگر کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، ملک میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں سرکاری گندم کے ممکنہ ضیاع پر تنقید کی جا رہی ہے۔ متعلقہ حلقوں کا مطالبہ ہے کہ ذخیرہ شدہ گندم کی موجودہ حالت کا جائزہ لیا جائے، نقصان کی وجوہات معلوم کی جائیں اور ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔ اگر گندم کی بروقت ترسیل اور حفاظت کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو مزید ذخیرہ خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ تاہم، دستیاب معلومات میں متاثرہ گندم کی مجموعی مقدار، مالی نقصان اور متعلقہ حکام کے مؤقف کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
کراچی کے گوداموں میں سرکاری گندم خراب ہونے لگی، فلور ملز کی جانب سے اٹھانے سے گریز