اسلام آباد:
قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی میں انٹرنیٹ سلو ہونے کے معاملے پر شرمیلا فاروقی شزہ فاطمہ پر برہم ہوگئیں اور کہا کہ جیسے ہی پی ٹی آئی کال دیتی ہے انٹرنیٹ بند ہوجاتا ہے، حکومت کہتی ہے سب ٹھیک ہے تو کیا ای کامرس ادارے، ہم اور عوام جھوٹ بول رہے ہیں؟
ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس چیئرمین قائمہ کمیٹی و وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق کے زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں انٹرنیٹ کی سست روی کے معاملے پر بحث ہوئی۔ دوران اجلاس وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ کے بیان پر پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی شزہ فاطمہ پر برہم ہوگئیں۔
جہاں ضرورت ہو وہاں سرویلنس کرنی پڑتی ہے، شزہ فاطمہ
وزیر مملکت آئی ٹی شزہ فاطمہ نے کہا کہ اس ملک میں دہشت گردی ہوتی ہے، ایک مہینے میں سو سے زیادہ جوان شہید ہوتے ہیں، میں مانتی ہوں کہ عوام پر بلاوجہ سرولینس نہیں ہونی چاہیے مگر ہمیں جہاں ضرورت ہوتی ہے ہمیں وہاں سرویلنس کرنی پڑتی ہے۔
انٹرنیٹ کے ایشوز تھے مگر اب نہیں ہیں، شزہ فاطمہ
پاکستان نے پچھلے ایک مہینے میں ڈیڑھ ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کی ہیں، اگر انٹرنیٹ بند ہے تو یہ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے؟ آپ چئیرمین پاشا کو بُلائیں انھوں نے کل مجھے کہا کہ کسی انڈسٹری کو اب کوئی مسئلہ نہیں، ایشوز تھے انٹرنیٹ کے مگر اب نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اسٹار لنک سے بات کر رہے ہیں کہ پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ لایا جائے، انٹرنیٹ پر کسی انڈسٹری کو کوئی ایشو نہیں ہیں، ایشو تھے جو حل ہوچکے، حکومت ترجیح بنیادی پر منصوبے بھی کررہے ہیں۔
متحدہ کے رکن مصطفی کمال نے کہا کہ اگر تاثر درست نہیں تو اسے درست کرنا آپ ہی کا کام ہے۔
شرمیلا فاروقی شزہ فاطمہ کے جوابات پر برہم
پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی شزہ فاطمہ کے جوابات پر برہم ہوگئیں اور کہا کہ میں بہت مایوس ہوں چار اجلاس ہو چُکے ہیں کوئی حل نہیں نکلا، یا ہم جھوٹ بول رہے ہیں یا حکومت جھوٹ بول رہی ہے، ہم تو نقصان کا نہیں بتا رہے پاشا نمبرز دے رہا ہے نقصان کے۔
پی ٹی آئی احتجاج کی کال دیتے ہے اور انٹرنیٹ بند ہو جاتا ہے کیا ہم بے وقوف ہیں؟ شرمیلا فاروقی
انہوں نے کہا کہ میرا شوہر ای کامرس کی کمپنی چلاتا ہے اسے نقصان ہوا ہے، کیا ای کامرس والے جھوٹ بول رہے ہیں؟ کیا عوام اور ہم انٹرنیٹ کے سست ہونے پر جھوٹ بول رہے ہیں؟ تحریک انصاف کے احتجاج کی کال آتی ہے اور انٹرنیٹ فوراً بند ہو جاتا ہے، کیا ہم بے وقوف ہیں؟ جو سارے کام چھوڑ کے کمیٹی میں آتے ہیں اور یہاں کہا جاتا ہے کہ سب ٹھیک چل رہا ہے۔
واٹس ایپ نہیں چلتا نہ وائس نوٹ آتا جاتا ہے، شرمیلا
شرمیلا فاروقی نے کہا کہ ہم یہاں لیکچر سننے نہیں آتے کیا یہاں بیٹھے ممبران کا انٹرنیٹ چلتا ہے؟ میرا واٹس ایپ نہیں چلتا نہ وائس نوٹ آتا جاتا ہے، کیا صرف حکومت سچ بولتی ہے؟ خدا کے واسطے سچ بولیں اگر سیکیورٹی کے ایشوز ہیں تو سچ بتائیں بیٹھ کر معاملے کا حل نکالیں سچ تو بتائیں۔
ای سی ایل پر وفاق نام ڈالتا ہے تو انٹرنیٹ بند کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟ عمر ایوب
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ آج قانون کو عوام کے خلاف ویپنائز کیا جارہا ہے مجھ پر دہشت گردی کے مقدمات ہیں اور ارکان پر مقدمات ہیں، ہمیں تو سیدھا سیدھا مورد الزام ٹھہرا دیا جائے گا اور ڈرون حملہ ہوگا اور سب ختم ہوجائے گا کیا وزیر اعظم کے جوائنٹ سیکرٹری کو چٹھی آتی ہے کہ کون سے تھریٹس آتے ہیں؟ انٹرنیٹ کو بند کرنے کا کیا طریقہ کار ہے؟ ای سی ایل پر وفاقی حکومت نام ڈالتی ہے تو یہاں انٹرنیٹ بند کرنے کا ذمہ دار کون ہوتا ہے؟
ہم وی پی این پر پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، چیئرمین کمیٹی امین الحق
وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق نے کہا کہ کوتاہیاں ہر دور میں ہورہی ہیں ہمیں آگے بڑھنا ہے، ہمیں ہر صورت انٹرنیٹ برق رفتاری اور بلاتعطل چاہے، کسی بھی صورت انٹرنیٹ کو سلو نہیں ہونا چاہے، 15 بلین ڈالر آئی ٹی ایکسپورٹ بڑھانے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے، وی پی این کو قاعدہ قانون میں رہتے ہوئے بند نہیں ہونا چاہے، ہم وی پی این پر پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔
کمیٹی ارکان کا انٹرنیٹ بندش پر وزارت داخلہ کو طلب کرنے کا مطالبہ
چیئرمین کمیٹی امین الحق نے کہا کہ چیئرمین پاشا کو بلائیں وہ بتائیں انٹرنیٹ سلو ہونے سے کتنا نقصان ہوا؟ ارکان نے انٹرنیٹ سروس بند اور سلو ہونے پر وزارت داخلہ کے حکام کو طلب کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وزارت داخلہ انٹرنیٹ سروس بند کرواتی ہے تو ان کیمرا اجلاس بلایا جائے۔
سیکریٹری داخلہ، قانون اور چیئرمین پاشا آئندہ اجلاس میں طلب
قائمہ کمیٹی آئی ٹی نے آئندہ اجلاس میں سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری قانون کو بھی طلب کرلیا۔ قائمہ کمیٹی نے ملک میں وی پی این کے حوالے سے اقدامات کی ہدایت کردی۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں چیئرمین پاشا کو طلب کرلیا۔