khursheed-shah

سپریم کورٹ نے پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کی ضمانت منظور کرلی۔

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کی ضمانت منظور کرلی۔

خورشید شاہ کو 18 ستمبر 2019 کو نیب نے گرفتار کیا تھا فوٹو: فائل

خورشید شاہ کو 18 ستمبر 2019 کو نیب نے گرفتار کیا تھا فوٹو: فائل

اعتدال نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی خورشید شاہ کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ نیب کے وکیل نے سماعت کے دوران موقف اختیار کیا کہ خورشید شاہ کیخلاف تحقیقات مکمل ہو گئی ہے، وکیلوں کی ہڑتال اور ہنگاموں کی وجہ سے ریفرنس دائر نہ ہو سکا۔ خورشید شاہ نے بیرون ممالک کا چالیس مرتبہ سفر کیا اور انکے خاندان والوں نے بھی سو مرتبہ دورے کیے۔

دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ نیب بتادے کہ جو خورشید شاہ پر الزامات ہیں کیا وہ تحقیقات میں ثابت ہوئے، 2 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا گرفتاری کو لیکن ابھی تک نیب الزامات ثابت نہیں کرسکا، نیب کے تو گواہ بھی خورشید شاہ کے مخالف ہیں، کیا نیب کے پاس صرف یہی ایک واحد ثبوت ہے کہ خورشید شاہ نے چالیس مرتبہ بیرون ملک گئے، خورشید شاہ کوئی غریب شخص تو نہیں انھوں نے خود ظاہر کیا تھا کہ ان کے خاندان کے پاس 37 کروڑ کیش میں ہے، سفری اخراجات کا تو نیب خود حساب لگاتی اس کی بھی تفصیل کیا ملزم کو فراہم کرنی ہے، جب ملزم ہی آپ کی حراست میں ہے تو وہ کیسے آپ کو متعلقہ دستاویزات فراہم کرے گا،حراست میں رہ کر کسی کو فون کرکے نہیں بتایا جاسکتا کہ فلاں الماری میں سے وہ دستاویز نکال کر لے آئیں۔

عدالتی استفسار پر خورشید شاہ کے وکیل نے کہا کہ خورشید شاہ پر 12 املاک اور 5 بینک اکاونٹس کو جواز بنا کر ریفرنس بنایا گیا، نیب نے خورشید شاہ پر 574 ایکڑ زرعی کی خریداری پر کرپشن کا الزام لگایا، ٹپہ دار نے تسلیم کیا انہوں نے زمین کی قیمت اندازے سے لگائی، 574 ایکڑ زمین کی قیمت خرید سیل ڈیڈ اور کلیکٹر کے نوٹی فکیشن سے کنفرم ہوتی ہے، 1039 ایکڑ بنجر زمین 1979 میں عبدالحفیظ پیرزادہ کے والد عبد الستار پیرازادہ نے 80 ہزار میں خریدی، انہوں نے یہ زمین 1982 میں آگے فروخت کردی، پھر یہ زمین خورشید شاہ نے خریدی، زمین کو اب لفٹ ایریگیشن کے ذریعے سیراب کیا جاتا ہے۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے ایک کروڑ رو پے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بدلے خورشید شاہ کی درخواست ضمانت منظور کرلی، جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ نیب خورشید شاہ کو حراست میں رکھنے کی معقول وجہ نہیں بتا سکی۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ خورشید شاہ کا نام ای سی ایل میں رہے گا، وہ ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے احتساب عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ خورشید شاہ کو 18 ستمبر 2019 کو نیب نے گرفتار کیا تھا۔ نیب سکھر کی جانب سے خورشید شاہ پر ایک ارب 30 کروڑ روپے کا ریفرنس دائر کیا گیا تھا، جس میں خورشید شاہ کی اہلیہ، 2 بیٹے اور بھتیجے سمیت 18افراد ریفرنس میں نامزد کئے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں