45

سندھ حکومت نے توہین رسالت کے ملزم کی جعلی پولیس مقابلے میں ہلاکت کی تصدیق کردی

دائیں طرف وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار پریس کانفرنس کرتے ہوئے بائیں جانب ملزم ڈاکٹر شاہنواز کی تصویر (فوٹو : ایکسپریس)

دائیں طرف وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار پریس کانفرنس کرتے ہوئے بائیں جانب ملزم ڈاکٹر شاہنواز کی تصویر (فوٹو : ایکسپریس)

  کراچی: سندھ پولیس نے عمر کوٹ میں توہین عدالت کے الزام میں ڈاکٹر شہزاد کے جعلی پولیس مقابلے کی رپورٹ پیش کردی، وزیر داخلہ سندھ نے کہا ہے کہ ملوث اہلکاروں کے خلاف اہل خانہ کی مدعیت میں ایف آئی آر درج ہوگی اہل خانہ پیچھے ہٹے تو سندھ حکومت فریق بنے گی۔

اس بات کا اعلان وزیر داخلہ سندھ ضیا حسین لنجار نے ڈائریکٹوریٹ آف سوشل میڈیا کے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ ان کے ساتھ وزیر تعلیم سردار شاہ اور آئی جی سندھ غلام نبی میمن بھی موجود تھے۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن النجار نے کہا کہ میں نے احکامات دیے تھے کہ عمرکوٹ سانحے کی انکوائری جلد مکمل کریں، تفصیلی انکوائری کی گئی ہے، سی سی ٹی وی اور گاڑیوں کے ٹریکرز سے بھی مدد لی گئی، سانحے کی رپورٹ 31 صفحوں پر مشتمل ہے جس میں ثابت ہوا ہے کہ پولیس نے توہین رسالت کے ملزم ڈاکٹر شہزاد کا فیک انکاؤنٹر کیا اور رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی اور ماتحت عملہ کسی نہ کسی صورت اس میں ملوث ہے۔

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ ہم ملوث افسران کے خلاف ایف آئی آر کا حکم دے رہے ہیں پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت ہے کمیٹی نے فائنڈنگس دی ہے کہ مقتول کی فیملی مقدمہ درج کروائے اگر انہوں نے مقدمہ درج نہ کرایا تو سندھ حکومت فریق بن کر مقدمہ درج کرائے گی، کسی کو بھی ماورائے عدالت قتل کی اجازت نہیں دیں گے پولیس کا کام ہے شہریوں کی حفاظت کرنا، اگر وہ توہین عدالت کا مرتکب تھا تب بھی اسے عدالت میں پیش کرنا چاہیے ابھی یہ بات تحقیقات کے مراحل میں ہے کہ جرم اس نے کیا یا نہیں؟ اس کا موبائل فون فرانزک کے لیے گیا ہوا ہے۔

انہوں ںے کہا کہ واقعے کی ابتدائی رپورٹ پیش کی گئی ہے اب سندھ حکومت واقعے کی مکمل انکوائری کرائے گی جس کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے، تمام ملوث افسران کے خلاف ایف آئی آر ہوگی، سپریم کورٹ کی ججمنٹ ہے کہ ایک واقعے کی ایک ہی مقدمہ ہوگا اگر مقتول کے لواحقین مقدمہ درج نہیں کروائیں گے ریاست مقدمہ درج کرائے گی۔

ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ڈی آئی جی واقعے میں ملوث ہیں، میری ذمہ داری ہے کہ پولیس کا مورال عوام کی نظر میں بہتر ہو، رپورٹ میں یہ کلیئر ہے کہ یہ جعلی پولیس مقابلہ تھا،پولیس اس معاشری کے تحفظ کے لیے ہے نہ کہ جعلی انکاؤنٹر کے لیے، ہم نے میرپور خاص میں نیا ڈی آئی جی تعینات کردیا ہے اور ملزم پر درج چھ ایف آئی آرز کی تفتیش ہوگی ابھی یہ زیر تفتیش ہے کہ ڈاکٹر شاہنواز نے توہین کی تھی یا نہیں۔

انہوں ںے مزید کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ حکومت کی رٹ برقرار رہے اور ادارے آئینی حدود میں رہتے ہوئی کام کریں، وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ متاثر خاندان کے لیے معاوضے کا جلد اعلان کریں گے، ہم متاثرہ فیملی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

رپورٹ تین پولیس افسران نے مرتب کرکے وزیراعلیٰ کو پیش کی

دریں اثنا پریس کانفرنس سے قبل عمر کوٹ واقعے کی انکوائری رپورٹ سندھ حکومت کے سپرد کردی گئی۔ یہ رپورٹ ڈی آئی جی حیدرآباد طارق رزاق دھاریجو اور ڈی آئی جی شہید بے نظیر آباد پرویز چانڈیو، ایس ایس پی شیراز نذیر عباسی پر مشتمل پولیس افسران نے وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کی۔

انکوائری رپورٹ ملنے کے بعد وزیر اعلی ہاؤس کے اندر اجلاس میں رپورٹ پر غور کیا گیا اور وزیر اعلی سندھ نے رپورٹ پریس کانفرنس کے ذریعے پبلک کرنے کی ذمہ داری وزیر داخلہ کو سونپی۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں